حقیقةُ الوحی — Page 244
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۴۴ حقيقة الوحى حد تک کوئی مصیبت اُٹھا کر پھر امن میں داخل کیا جاتا ہے۔ یہی پیشگوئی قادیان کی نسبت ہے چنانچہ صرف ایک دفعہ کسی قدر شدت سے طاعون قادیان میں ہوئی۔ بعد اس سے کم ہوتی گئی یہاں تک کہ اب کے سال میں ایک شخص بھی قادیان میں طاعون سے نہیں مرا حالانکہ اردگر وصد با آدمی طاعون سے فوت ہو گئے ۔ ۸۳ - تراسی واں نشان ۔ ایک دفعہ میں اپنے اُس چوبارہ میں بیٹھا ہوا تھا جو چھوٹی مسجد سے ملحق ہے جس کا نام خدا تعالیٰ نے بیت الفکر رکھا ہے اور میرے پاس میرا ایک خدمتگار حامد علی نام پیر دبا رہا تھا اتنے میں مجھے الہام ہوا ترى فخذا اليما یعنی تو ایک درد ناک ران دیکھے گا۔ میں نے حامد علی کو کہا کہ اس وقت مجھے یہ الہام ہوا ہے اُس نے (۲۳۳) مجھے یہ جواب دیا کہ آپ کے ہاتھ پر ایک پھنسی ہے شائد اسی کی طرف اشارہ ہو میں نے اُس کو کہا کہ کجا ہاتھ اور کجا ران یہ خیال بیہودہ اور غیر معقول ہے اور پھنسی تو درد بھی نہیں کرتی اور نیز الہام کے یہ معنی ہیں کہ تو دیکھے گا نہ کہ اب دیکھ رہا ہے۔ بعد اس کے ہم دونوں چوبارہ پر سے اُترے۔ تا بڑی مسجد میں جا کر نماز پڑھیں اور نیچے اُتر کر میں نے دیکھا کہ دو شخص گھوڑے پر سوار میری طرف آ رہے ہیں دونوں بغیر کاٹھی کے دو گھوڑوں پر سوار تھے اور دونوں کی عمر بیس برس سے کم تھی وہ مجھے دیکھ کر وہیں ٹھیر گئے اور ایک نے اُن میں سے کہا کہ یہ میرا بھائی جو دوسرے گھوڑے پر سوار ہے درد ران سے سخت بیمار ہے اور سخت لا چار ہے اس لئے ہم آئے ہیں کہ آپ ان کے لئے کوئی دوا تجویز کریں۔ تب میں نے حامد علی کو کہا کہ الحمد للہ کہ میر الہام اس قدر جلد پورا ہوا کہ صرف اسی قدر دیرینگی کہ جس قدر زینہ پر سے اترنے میں دیر لگی ہے ۔ شیخ حامد علی اب تک موجود ہے جو موضع حصہ غلام نبی کا باشندہ ہے اور ان دنوں میرے پاس ہے۔ کوئی شخص دوسرے کے لئے اپنے ایمان کو ضائع نہیں کر سکتا بلکہ اگر درمیان تعلق مریدی کا ہو اور کوئی شخص اپنے مرید کو یہ کہے کہ میں نے اپنے لئے ایک جھوٹی کرامت بنائی ہے تو میرے لئے گواہی دے۔ تب وہ اپنے دل میں ضرور کہے گا کہ یہ تو ایک مکار اور بد آدمی ہے میں نے ناحق