حقیقةُ الوحی — Page 240
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۴۰ حقيقة الوحى نفس کی حاجات پر مجھے مقدم رکھ کر اپنے عزیز مال میرے آگے رکھتے ہیں اور میں دیکھتا ۲۲۹) ہوں کہ اُن کے دل محبت سے پر ہیں اور بہتیرے ایسے ہیں کہ اگر میں کہوں کہ وہ اپنے مالوں سے بکلی دست بردار ہو جائیں یا اپنی جانوں کو میرے لئے فدا کریں تو وہ طیار ہیں۔ جب میں اس درجہ کا صدق اور ارادت اکثر افراد اپنی جماعت میں پاتا ہوں تو بے اختیار مجھے کہنا پڑتا ہے کہ اے میرے قادر خدا! در حقیقت ذرہ ذرہ پر تیرا تصرف ہے تو نے ان دلوں کو ایسے پر آشوب زمانہ میں میری طرف کھینچا اور اُن کو استقامت بخشی یہ تیری قدرت کا نشان عظیم الشان ہے۔ ۷۷۔ سترھواں نشان ۔ بشیر احمد میرالڑکا آنکھوں کی بیماری سے ایسا بیمار ہو گیا تھا کہ کوئی دوا فائدہ نہیں کر سکتی تھی اور بینائی جاتے رہنے کا اندیشہ تھا۔ جب شدت مرض انتہا تک پہنچ گئی تب میں نے دعا کی تو الہام ہوا برق طفلی بشیر ۔ یعنی میرا لڑکا بشیر دیکھنے لگا۔ تب اسی دن یا دوسرے دن وہ شفایاب ہو گیا۔ یہ واقعہ بھی قریباً سو آدمی کو معلوم ہوگا۔ ۷۸ ۔ اٹھتر واں نشان ۔ جب چھوٹی مسجد میں نے تعمیر کی جو ہمارے گھر کے ساتھ ایک کو چہ پر ہے تب مجھے خیال آیا کہ اس کی کوئی تاریخ چاہیے تب خدا تعالی کی طرف سے القا ہوا مبارک و مبارک و کل امر مبارک یجعل فيه یہ ایک پیشگوئی تھی اور اسی سے مادہ تاریخ بنائے مسجد نکلتا ہے۔ حاشیہ میں اپنی تحریر میں اس جگہ تک پہنچا تھا اور یہ فقرہ لکھ چکا تھا کہ اسی وقت ایک مخلص صادق کا خط آیا جو میرے سلسلہ میں داخل ہے اور چونکہ وہ خط اس فقرہ کے عین لکھنے کے وقت آیا اور اس کے مناسب حال تھا اس لئے ذیل میں اس کو لکھتا ہوں اور وہ یہ ہے۔ میری بڑی تمنا یہ ہے کہ قیامت میں حضور والا کے زیر سایہ جماعت بابرکت میں شامل ہوں جیسا کہ اب ہوں۔ آمین ۔ حضور عالی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ خاکسار کو اس قدر محبت ذات والا صفات کی ہے کہ میرا تمام مال و جان آپ پر قربان ہے اور میں ہزار جان سے آپ پر قربان ہوں۔ میرے بھائی اور والدین آپ پر شار ہوں۔خدا میرا خاتمہ آپ کی محبت اور اطاعت میں کرے۔ آمین۔ می پریدم سوئے کوئے تو مدام - من اگر میداشتم بال و پرے۔ خاکسار سید ناصر شاہ اورسیئر از مقام بارہ مولہ کشمیر ۱۵ راگست ۱۹۰۶ء ۔ در حقیقت یہ نوجوان مخلص نہایت درجہ اخلاص رکھتا ہے اور قریب دو ہزار روپیہ کے یا زیادہ اس سے اپنی محبت کے جوش سے دے چکا ہے اس مخط کے ساتھ بھی نے پہنچے ۔ منہ