حقیقةُ الوحی — Page 239
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۳۹ حقيقة الوح ۷۲۔ بہترواں نشان ۔ بعض سخت مخالف جنہوں نے مباہلہ کے طور پر لعنت الله على الكاذبين کہا تھا وہ خدا تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا ہو کر مرے جیسا کہ مولوی رشید احمد گنگوہی پہلے اندھا ہوا اور پھر سانپ کے کاٹنے سے مر گیا۔ اور بعض دیوانہ ہو کر مر گئے جیسا کہ مولوی شاہ دین لدھیانوی اور مولوی عبد العزیز اور مولوی محمد اور مولوی عبدالله لو دھانوی (۲۲۸ جو اول درجہ کے مخالف تھے تینوں فوت ہو گئے ۔ ایسا ہی عبد الرحمن محی الدین لکھو کے والے اپنے اس الہام کے بعد کہ کاذب پر خدا کا عذاب نازل ہوگا فوت ہو گئے ۔ ۷۳ ۔ تہترواں نشان ۔ ایسا ہی مولوی غلام دستگیر قصوری نے اپنے طور پر مجھ سے مباہلہ کیا اور اپنی کتاب میں دعا کی کہ جو کا ذب ہے خدا اُس کو ہلاک کرے پھر اس دعا سے چند دن بعد آپ ہی ہلاک ہو گیا۔ یہ کس قدر مخالف مولویوں کے لئے نشان تھا اگر وہ سمجھتے ۔ ۷۴۔ چوہترواں نشان ۔ ایسا ہی مولوی محمد حسن بھیں والا میری پیشگوئی کے مطابق مرا جیسا کہ میں نے مفصل اپنی کتاب مواہب الرحمن میں لکھا ہے۔ ۷۵۔ پچھتر واں نشان ۔ میں نے اپنی کتاب نور الحق کے صفحہ ۳۵ سے صفحہ ۳۸ تک یہ پیشگوئی لکھی ہے کہ خدا نے مجھے یہ خبر دی ہے کہ رمضان میں جو خسوف کسوف ہوا یہ آنے والے عذاب کا ایک مقدمہ ہے چنانچہ اس پیشگوئی کے مطابق ملک میں ایسی طاعون پھیلی کہ اب تک تین لاکھ کے قریب لوگ مر گئے۔ ۷۶۔ چھہترواں نشان ۔ براہین احمدیہ میں میری نسبت خدا تعالی کی یہ پیشگوئی ہے القیت عليك محبة منى ولتصنع على عينى يعنى خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تیری محبت لوگوں کے دلوں میں ڈالوں گا۔ اور میں اپنی آنکھوں کے سامنے تیری پرورش کروں گا۔ یہ اُس وقت کا الہام ہے کہ جب ایک شخص بھی میرے ساتھ تعلق نہیں رکھتا تھا۔ پھر ایک مدت کے بعد یہ الہام پورا ہوا اور ہزار ہا انسان خدا نے ایسے پیدا کئے کہ جن کے دلوں میں اُس نے میری محبت بھر دی بعض نے میرے لئے جان دے دی اور بعض نے اپنی مالی تباہی میرے لئے منظور کی اور بعض میرے لئے اپنے وطنوں سے نکالے گئے اور دکھ دیئے گئے اور ستائے گئے اور ہزار ہا ایسے ہیں کہ وہ اپنے