حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 238 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 238

۲۲۷ روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۳۸ حقيقة الوح طاعون سے مرگئی اور اُس کا داماد بھی جو محکمہ ا کا ؤنٹنٹ جنرل میں ملازم تھا طاعون سے مر گیا۔ اسی طرح اُس کے گھر کے سترہ آدمی مباہلہ کے بعد طاعون سے ہلاک ہو گئے ۔ یہ عجیب بات ہے کیا کوئی اس بھید کو سمجھ سکتا ہے کہ ان لوگوں کے خیال میں کا ذب اور مفتری اور دجال تو میں ٹھیر امگر مباہلہ کے وقت میں یہی لوگ مرتے ہیں کیا نعوذ باللہ خدا سے بھی کوئی غلط فہمی ہو جاتی ہے؟ ایسے نیک لوگوں پر کیوں یہ قہر الہی نازل ہے جو موت بھی ہوتی ہے اور پھر ذلت اور رسوائی بھی اور میاں معراج دین لکھتے ہیں کہ ایسا ہی کریم بخش نام لاہور میں ایک ٹھیکہ دار تھا وہ سخت بے ادبی اور گستاخی حضور کے حق میں کرتا تھا اور اکثر کرتا ہی رہتا تھا۔ میں نے کئی دفعہ اُس کو سمجھایا مگر وہ باز نہ آیا۔ آخر جوانی کی عمر میں ہی شکار موت ہوا۔ سید حامد شاہ صاحب سیالکوٹی لکھتے ہیں کہ حافظ سلطان سیالکوٹی حضور کا سخت مخالف تھا یہ وہی شخص تھا جس نے ارادہ کیا تھا کہ سیالکوٹ میں آپ کی سواری گذرنے پر آپ پر راکھ ڈالے آخر وہ سخت طاعون سے اسی ۱۹۰۶ ء میں ہلاک ہوا اور اُس کے گھر کے نو یا دن آدمی بھی طاعون سے ہلاک ہوئے ۔ ایسا ہی شہر سیالکوٹ میں یہ بات سب کو معلوم ہے کہ حکیم محمد شفیع جو بیعت کر کے مرتد ہو گیا تھا جس نے مدرستہ القرآن کی بنیاد ڈالی تھی آپ کا سخت مخالف تھا یہ بد قسمت اپنی اغراض نفسانی کی وجہ سے بیعت پر قائم نہ رہ سکا اور سیالکوٹ کے محلہ لوہاراں کے لوگ جو سخت مخالف تھے عداوت اور مخالفت میں اُن کا شریک ہو گیا۔ آخر وہ بھی طاعون کا شکار ہوا اور اُس کی بیوی اور اُس کی والدہ اور اُس کا بھائی سب یکے بعد دیگرے طاعون سے مرے اور اُس کے مدرسہ کو جو لوگ امداد دیتے تھے وہ بھی ہلاک ہو گئے۔ ایسا ہی مرزا سردار بیگ سیالکوٹی جو اپنی گندہ زبانی اور شوخی میں بہت بڑھ گیا تھا اور ہر وقت استہزا اور ٹھٹھا اس کا کام تھا اور ہر ایک بات طنز اور شوخی سے کرتا تھا وہ بھی سخت طاعون میں گرفتار ہو کر ہلاک ہوا اور ایک دن اُس نے شوخی سے جماعت احمدیہ کے ایک فرد کو کہا کہ کیوں طاعون طاعون کرتے ہو ہم تو تب جانیں کہ ہمیں طاعون ہو پس اس سے دو دن بعد طاعون سے مر گیا۔