حقیقةُ الوحی — Page 237
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۳۷ حقيقة الوحى میرا نام دجال رکھا تھا اور کہتا تھا کہ حضرت عیسی نے مجھے خواب میں عصا دیا ہے تا میں عیسی کے عصا سے ۲۲۶ اس دجال کو ہلاک کروں سو وہ بھی میری اس پیشگوئی کے مطابق جو خاص اُس کے حق میں رسالہ دافع البلاء و معيار اهل الاصطفاء میں اُس کی زندگی میں ہی شائع کی گئی تھی ۴ را پر میل ۱۹۰۶ء کو مع اپنے دونوں بیٹوں کے طاعون سے ہلاک ہو گیا ۔ کہاں گیا عیسی کا عصا جس کے ساتھ مجھے قتل کرتا تھا؟ اور کہاں گیا اُس کا الہام اني لمن المرسلين ؟ افسوس اکثر لوگ قبل تزکیہ نفس کے حدیث النفس کو ہی الہام قرار دیتے ہیں اس لئے آخر کار ذلت اور رسوائی سے ان کی موت ہوتی ہے اور ان کے سوا اور بھی کئی لوگ ہیں جو ایڈا اور اہانت میں حد سے بڑھ گئے تھے اور خدا تعالیٰ کے قہر سے نہیں ڈرتے تھے اور دن رات ہنسی اور ٹھٹھا اور گالیاں دینا اُن کا کام تھا آخر کا ر طاعون کا شکار ہو گئے جیسا کہ منشی محبوب عالم صاحب احمدی لاہور سے لکھتے ہیں کہ ایک میرا چا تھا جس کا نام نوراحمد تھا وہ موضع بھڑی چٹھہ تحصیل حافظ آباد کا باشندہ تھا اُس نے ایک دن مجھے کہا کہ مرزا صاحب اپنی مسیحیت کے دعوے پر کیوں کوئی نشان نہیں دکھلاتے ۔ میں نے کہا کہ اُن کے نشانوں میں سے ایک نشان طاعون ہے جو پیشگوئی کے بعد آئی جو دنیا کو کھاتی جاتی ہے تو اس بات پر وہ بول اُٹھا کہ طاعون ہمیں نہیں چھوٹے گی بلکہ یہ طاعون مرزا صاحب کو ہی ہلاک کرنے کے لئے آئی ہے اور اس کا اثر ہم پر ہر گز نہیں ہو گا مرزا صاحب پر ہی ہوگا۔ اسی قدر گفتگو پر بات ختم ہو گئی۔ جب میں لاہور پہنچا تو ایک ہفتہ کے بعد مجھے خبر ملی کہ چچا نور احمد طاعون سے مر گئے اور اس گانو کے بہت سے لوگ اس گفتگو کے گواہ ہیں اور یہ ایسا واقعہ ہے کہ چھپ نہیں سکتا۔ اور میاں معراج الدین صاحب لاہور سے لکھتے ہیں کہ مولوی زین العابدین جو مولوی فاضل اور منشی فاضل کے امتحانات پاس کردہ تھا اور مولوی غلام رسول قلعہ والے کے رشتہ داروں میں سے تھا اور دینی تعلیم سے فارغ التحصیل تھا اور انجمن حمایت اسلام لاہور کا ایک مقرب مدرس تھا اُس نے حضور کے صدق کے بارہ میں مولوی محمد علی سیالکوٹی سے کشمیری بازار میں ایک دوکان پر کھڑے ہو کر مباہلہ کیا۔ پھر تھوڑے دنوں کے بعد بمرض طاعون مرگیا اور نہ صرف وہ بلکہ اُس کی بیوی بھی یہ الفاظ خدا تعالیٰ کی نظر میں بطور مباہلہ کے تھے ۔ منہ