حقیقةُ الوحی — Page 225
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۲۵ حقيقة الوح وقد ظهر بعض انباء ه تعالى من اجزاء هذه القضية فيظهر بقيتها كما وعد من غير الشك والشبهة ۔ ترجمہ اور منجملہ میرے نشانوں کے ایک یہ ہے کہ جو خدائے علیم و حکیم نے ایک لیم شخص کی نسبت اور اس کے بہتان عظیم کی نسبت مجھے خبر دی۔ اور مجھے اپنی وحی سے اطلاع دی کہ یہ شخص میری عزت دور کرنے کے لئے حملہ کرے گا اور انجام کار میرا نشانہ آپ بن جائے گا۔ اور خدا نے تین خوابوں میں یہ حقیقت میرے پر ظاہر کی اور خواب میں میرے پر ظاہر کیا کہ یہ دشمن تین حمایت کرنے والے اپنی کامیابی کے لئے مقرر کرے گا تا کہ کسی طرح اہانت کرے اور رنج پہنچاوے اور مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ گویا میں کسی عدالت میں گرفتاروں کی طرح حاضر کیا گیا ہوں اور مجھے دکھلایا گیا کہ انجام ان حالات کا میری نجات ہے اگر چہ کچھ مدت کے بعد ہو۔ اور مجھے بشارت دی گئی کہ اس دشمن کذاب مہین پر بلارڈ کی جائے گی پس ان تمام خوابوں اور الہامات کو میں نے قبل از وقت شائع کر دیا اور جن اخباروں میں شائع کیا ایک کا نام ان میں سے الحکم ہے اور دوسری کا نام البدر ۔ پھر میں انتظار کرتا رہا کہ کب یہ پیشگوئی کی باتیں ظہور میں آئیں گی پس جب ایک برس گذرا تو یہ مقدر باتیں کرم دین کے ہاتھ سے ظہور میں آگئیں (یعنی اُس نے ناحق میرے پر فوجداری مقدمات دائر کئے ) پس اُس کے مقدمات دائر کرنے سے پیشگوئی کا ایک حصہ تو پورا ہو گیا اور جو باقی حصہ ہے یعنی میرا اُس کے مقدمات سے نجات پانا۔ اور آخر اُسی کا سزا یاب ہونا یہ بھی عنقریب پورا ہو جائے گا۔ اس حصہ عبارت سے ظاہر ہے کہ اس کتاب کی اشاعت کے وقت تک نہ مجھے کرم دین کے مقدمات سے نجات اور رہائی ملی تھی اور نہ وہ سزایاب ہوا تھا بلکہ یہ سب کچھ پیشگوئی کے طور پر لکھا گیا تھا تو یہ ترجمہ ہے اس پیشگوئی کا جو عربی میں او پر لکھی گئی ہے جس میں بتلایا گیا ہے کہ کرم دین میرے سزا دلانے کے لئے فوجداری میں مقدمات دائر کرے گا اور کئی حمایتی اُس کو مدد دیں گے آخر وہ خود سزا پائے گا اور خدا مجھے اس کے شر سے نجات دیگا جو مقدمات کرم دین کے متعلق جہلم اور گورداسپور کی عدالت سے فیصلہ ہوئے ان کی تاریخ سے بھی ظاہر ہے کہ کرم دین کی سیز ایابی اور میری بریت کی پیشگوئی ان مقدمات کے فیصلہ سے پہلے میری کتاب مواہب الرحمن میں شائع ہو چکی تھی جو شخص چاہے عدالت میں جا کر ان فیصلوں کی تاریخیں دیکھ لے اور اس پیشگوئی کے پورے ہونے کے مولوی ثناء اللہ امرتسری اور مولوی محمد وغیرہ جو آتمارام کی کچہری میں حاضر ہوئے تھے گواہ ہیں ۔ منہ