حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 218 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 218

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۱۸ حقيقة الوحي خوف کا مقام ہے اکثر یہودیوں نے صرف اس سبب سے حضرت عیسی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول نہیں کیا کہ اس بات کو انہوں نے اپنا فرض سمجھا کہ جب تک ساری علامتیں اور ساری نشانیاں اُن میں اپنے خیال کے موافق پوری ہوتی نہ دیکھ لیں تب تک مانا نا جائز ہے اور آخر کفر کے گڑھے میں گر گئے اور اس بات پر اب تک اڑے رہے کہ پہلے الیاس آنا چاہیے (۲۰۹) پھر مسیح اور خاتم الانبیاء بنی اسرائیل میں سے چاہیے۔ غرض خواجہ غلام فرید صاحب کو خدا تعالیٰ نے یہ نور باطن عطا کیا تھا کہ وہ ایک ہی نظر میں صادق اور کاذب میں فرق کر لیتے تھے خدا اُن کو غریق رحمت کرے اور اپنے قرب میں جگہ دے۔ آمین ۲۰۔ بیسواں نشان ۔ قریباً تمیں برس کا عرصہ ہوا ہے کہ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا تھا کہ تو ایک نسل بعید کو دیکھے گا۔ اس الہام کے صدہا آدمی گواہ ہیں اور کئی مرتبہ چھپ چکا ہے اب اس کے موافق ظہور میں آیا کہ میں نے وہ اولا د دیکھی جو پیشگوئی کے وقت موجود نہ تھی اور پھر اولاد کی اولا د دیکھی اور نہ معلوم ابھی کہاں تک اس پیشگوئی کا اثر ہے۔ ۲۱۔ اکیسواں نشان۔ یہ کہ عرصہ تخمیناً تمہیں برس کا ہوا ہے کہ جب میرے والد صاحب خدا اُن کو غریق رحمت کرے اپنی آخری عمر میں بیمار ہوئے تو جس روز اُن کی وفات مقدر تھی دو پہر کے وقت مجھ کو الہام ہوا ۔ وَالسّماءِ وَالطارق اور ساتھ ہی دل میں ڈالا گیا کہ یہ اُن کی وفات کی طرف اشارہ ہے اور اس کے یہ معنی ہیں کہ قسم ہے آسمان کی اور قسم ہے اُس حادثہ کی جو آفتاب کے غروب کے بعد پڑے گا۔ اور یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندہ کو عزا پرسی تھی ۔ تب میں نے سمجھ لیا کہ میرے والد صاحب غروب آفتاب کے بعد فوت ہو جائیں گے اور کئی اور لوگوں کو اس الہام کی خبر دی گئی اور مجھے قسم ہے اللہ تعالیٰ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جس پر جھوٹ بولنا ایک شیطان اور لعنتی کا کام ہے کہ ایسا ہی ظہور میں آیا اور اس دن میرے والد صاحب کی اصل مرض جو در دگر وہ تھی دور ہو چکی تھی صرف تھوڑی سی زیر باقی تھی اور اپنی طاقت سے بغیر کسی سہارے کے پاخانہ میں جاتے تھے جب سورج غروب ہوا اور وہ پاخانہ سے