حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 217 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 217

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۱۷ حقيقة الوحي کے بارہ میں لکھی جاتی ہیں وہ تمام باتیں اپنے ظاہری الفاظ کے ساتھ ہرگز پوری نہیں ہوتیں بعض ﴿۲۸﴾ جگہ استعارات ہوتے ہیں بعض جگہ خود اپنی سمجھ میں فرق پڑ جاتا ہے اور بعض جگہ پرانی باتوں میں کچھ تحریف ہو جاتی ہے اس لئے تقویٰ کا طریق یہ ہے کہ جو باتیں پوری ہو جائیں اُن سے فائدہ اُٹھا ئیں اور وقت اور ضرورت کو مدنظر رکھیں اور اگر تمام مقرر کردہ علامتوں کو اپنی سمجھ سے مطابق کرنا ضروری ہوتا تو تمام نبیوں سے دستبردار ہونا پڑتا اور انجام اس کا بجز محرومی اور بے ایمانی کے کچھ نہ ہوتا کیونکہ کوئی بھی ایسا نبی نہیں گزرا جس پر تمام قرار داده علامتیں ظاہری طور پر صادق آگئی ہوں۔ کوئی نہ کوئی کسر رہ گئی ہے۔ یہودی پہلے مسیح کی نسبت یعنی حضرت عیسی کی نسبت کہتے تھے کہ وہ اُس وقت آئے گا کہ جب پہلے اس سے الیاس نبی دوبارہ زمین پر آ جائے گا۔ پس کیا الیاس آگیا ؟ ایسا ہی یہودیوں کا اس بات پر اصرار تھا کہ آنے والا خاتم الانبیاء بنی اسرائیل میں سے ہوگا پس کیا وہ بنی اسرائیل میں سے ظاہر ہوا؟ پھر جبکہ یہودیوں کے خیال کے موافق جس پر ان کے تمام نبیوں کا اتفاق تھا خاتم الانبیاء بنی اسرائیل میں سے نہیں آیا ۔ پھر اگر مہدی موعود فاطمی یا عباسی خاندان سے ظاہر نہ ہوا تو اس میں کون سی تعجب کی جگہ ہے۔ خدا کی پیشگوئی میں کئی اسرار مخفی ہوتے ہیں اور امتحان بھی منظور ہوتا ہے۔ ☆ پس جبکہ یہودی اپنے خیالات پر زور دینے سے ایمان سے محروم رہے تو مسلمانوں کے لئے یہ عبرت پکڑنے کا مقام ہے کیونکہ حدیث صحیح میں آیا ہے کہ آخری زمانہ میں مسلمانوں میں سے بعض یہودی ہو جائیں گے یعنی یہودیوں کی عادت اختیار کریں گے اور اُن کے قدم پر چلیں گے جیسا کہ لکھا ہے کہ اگر کسی یہودی نے اپنی ماں سے بھی زنا کیا ہوگا تو وہ بھی کریں گے۔ پس کس قدر حدیثوں کو خوب غور کر کے پڑھو وہ مہدی معہود کی نسبت اس قدر اختلاف رکھتی ہیں کہ گویا تناقضات کا مجموعہ ہے بعض حدیثوں میں لکھا ہے کہ مہدی فاطمی ہوگا اور بعض میں لکھا ہے کہ عباسی ہوگا اور بعض میں لکھا ہے کہ رجل من امتی یعنی میری اُمت سے ایک شخص ہوگا اور ابن ماجہ کی حدیث نے ان سب روایات پر پانی پھیر دیا ہے کیونکہ اس حدیث کے یہ الفاظ ہیں کہ لا مهدی الا عیسی یعنی عیسی ہی مہدی ہے اس کے سوا اور کوئی مہدی نہیں ۔ پھر مہدی کی حدیثوں کا یہ حال ہے کہ کوئی بھی جرح سے خالی نہیں اور کسی کو صحیح حدیث نہیں کہہ سکتے ۔ پس جس رنگ پر پیشگوئی ظہور میں آئی اور جو کچھ حکم موعود نے فیصلہ کیا وہی صحیح ہے۔ منہ