حقیقةُ الوحی — Page 209
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۰۹ حقيقة الوحي مقرر تھا کیونکہ مسیح موعود خاتم الخلفاء ہے اور آخر کو اوّل سے مناسبت چاہیے۔ اور چونکہ حضرت آدم بھی چھٹے دن کے آخر میں پیدا کئے گئے ہیں اس لئے بلحاظ مناسبت ضروری تھا کہ آخری خلیفہ جو آخری آدم ہے وہ بھی چھٹے ہزار کے آخر میں پیدا ہو۔ وجہ یہ کہ خدا کے سات دنوں میں سے ہر ایک دن ہزار برس کے برابر ہے جیسا کہ خود وہ فرماتا ہے۔ اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ یا اور احادیث صحیحہ سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح موعود چھٹے ہزار میں پیدا ہوگا اسی لئے تمام اہل کشف مسیح موعود کا زمانہ قرار دینے میں چھٹے ہزار برس سے باہر نہیں گئے اور زیادہ سے زیادہ اُس کے ظہور کا وقت چودھویں صدی ہجری لکھا ہے ۔ اور اہل اسلام کے اہل کشف نے مسیح موعود کو جو آخری خلیفہ اور خاتم الخلفاء ہے صرف اس بات میں ہی آدم سے مشابہ قرار نہیں دیا کہ آدم چھٹے دن کے آخر میں پیدا ہوا اور مسیح موعود چھٹے ہزار کے آخر میں پیدا ہوگا بلکہ اس بات میں بھی مشابہ قرار دیا ہے کہ آدم کی طرح وہ بھی جمعہ کے دن پیدا ہوگا اور اس کی پیدائش بھی توام کے طور پر ہوگی یعنی جیسا کہ آدم توام کے طور پر پیدا ہوا تھا پہلے آدم اور بعد میں حوا۔ ایسا ہی مسیح موعود بھی توام کے طور پر پیدا ہوگا۔ سو الحمد لله والمنہ کہ متصوفین کی اس پیشگوئی کا میں مصداق ہوں میں بھی جمعہ کے روز بوقت صبح توام پیدا ہوا تھا صرف یہ فرق ہوا کہ پہلے لڑکی پیدا ہوئی تھی جس کا نام جنت تھا۔ وہ چند روز کے بعد جنت میں چلی گئی اور بعد اس کے میں پیدا ہوا ۔ اور اس پیشگوئی کو شیخ محی الدین ابن عربی نے بھی اپنی کتاب فصوص میں لکھا ہے اور لکھا ہے کہ وہ چینی الاصل ہو گا ۔ بہر حال خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر فرمایا ہے کہ سورۃ والعصر کے حروف حساب جمل کے رو سے ابتدائے آدم سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک جس قدر برس گزرے ہیں ان کی تعداد ظاہر کرتے ہیں۔ سوسورۃ مدوحہ کی رو سے جب اس زمانہ تک حساب لگایا جائے تو معلوم ہوگا کہ اب ساتواں ہزار لگ گیا ہے اور اسی حساب کے رو سے میری پیدائش چھٹے ہزار میں ہوئی ہے کیونکہ میری عمر اس وقت قریباً ۶۸ سال کی ہے ۔ منہ دیکھو حجج الکرامہ تالیف نواب صدیق حسن خان صاحب بھوپال ۔ منہ اس سے مطلب یہ ہے کہ اس کے خاندان میں ترک کا خون ملا ہوا ہوگا۔ ہمارا خاندان جو اپنی شہرت کے لحاظ سے مغلیہ خاندان کہلاتا ہے اس پیشگوئی کا مصداق ہے کیونکہ اگر چہ بیچ وہی ہے کہ جو خدا نے فرمایا کہ یہ خاندان فارسی الاصل ہے مگر یہ تو یقینی اور مشہود و محسوس ہے کہ اکثر مائیں اور دادیاں ہماری مغلیہ خاندان سے ہیں اور وہ چینی الاصل ہیں یعنی چین کی رہنے والی۔ منہ الحج: ۴۸