حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 208 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 208

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۰۸ حقيقة الوحي بد چلنیوں میں مبتلا ہو جائیں گے۔ ایک ہزار دوسونوے سال ہونگے جب مسیح موعود ظاہر ہوگا سو اس عاجز کے ظہور کا یہی وقت تھا کیونکہ میری کتاب براہین احمدیہ صرف چند سال بعد میرے مامور اور مبعوث ہونے کے چھپ کر شائع ہوئی ہے اور یہ عجیب امر ہے اور میں اس کو خدا تعالیٰ کا ایک نشان سمجھتا ہوں کہ ٹھیک بارہ سو نوے ہجری میں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ عاجز شرف ۲۰۰ مکالمہ و مخاطبہ پاچکا تھا۔ پھر سات سال بعد کتاب براہین احمدیہ جس میں میرا دعویٰ مسطور ہے تالیف ہوکر شائع کی گئی جیسا کہ میری کتاب براہین احمدیہ کے سرورق پر یہ شعر لکھا ہوا ہے: ۱۳۳۵ از بس کہ یہ مغفرت کا دکھلاتی ہے راہ تاریخ بھی یا غفور نکلی وہ واہ سودانیال نبی کی کتاب میں جو ظہور مسیح موعود کے لئے بارہ سونوے برس لکھے ہیں۔ اس کتاب براہین احمدیہ میں جس میں میری طرف سے مامور اور منجانب اللہ ہونے کا اعلان ہے صرف سات برس اس تاریخ سے زیادہ ہیں جن کی نسبت میں ابھی بیان کر چکا ہوں کہ مکالمات الہیہ کا سلسلہ ان سات برس سے پہلے کا ہے یعنی بارہ سو نوے کا ۔ پھر آخری زمانہ اس مسیح موعود کا دانیال تیرہ سو پینتیس برس لکھتا ہے۔ جو خدا تعالیٰ کے اس الہام سے مشابہ ہے جو میری عمر کی نسبت بیان فرمایا ہے اور یہ پیشگوئی ظنی نہیں ہے کیونکہ حضرت عیسی کی پیشگوئی جو مسیح موعود کے بارہ میں انجیل میں ہے اُس کا اِس سے توارد ہو گیا ہے اور وہ بھی یہی زمانہ مسیح موعود کا قرار دیتی ہے چنانچہ اس میں مسیح موعود کے زمانہ کی یہ علامتیں لکھی ہیں کہ اُن دنوں میں طاعون پڑے گی ، زلزلے آئیں گے ، لڑائیاں ہوں گی اور چاند اور سورج کا کسوف خسوف ہوگا۔ پس اس میں کیا شک ہے کہ جس زمانہ کے آثار انجیل ظاہر کرتی ہے اُسی زمانہ کی دانیال بھی خبر دیتا ہے اور انجیل کی پیشگوئی دانیال کی پیشگوئی کو قوت دیتی ہے کیونکہ وہ سب باتیں اس زمانہ میں وقوع میں آگئی ہیں اور ساتھ ہی یہود و نصاریٰ کی وہ پیشگوئی جو بائبل میں سے استنباط ۲۰۱ کی گئی ہے اس کی مؤید ہے اور وہ یہ کہ مسیح موعود آدم کی تاریخ پیدائش سے چھٹے ہزار کے آخر میں پیدا ہوگا چنانچہ قمری حساب کے رو سے جو اصل حساب اہل کتاب کا ہے میری ولادت چھٹے ہزار کے آخر میں تھی اور چھٹے ہزار کے آخر میں مسیح موعود کا پیدا ہونا ابتدا سے ارادہ الہی میں