حقیقةُ الوحی — Page 207
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۰۷ حقيقة الوحي کریں گے یا کسی حد تک اس پر عذاب وارد نہیں کریں گے ۔سو یہی وہ زمانہ ہے کیونکہ طاعون اور زلزلوں اور طوفان اور آتش افشاں پہاڑوں کے صدمات اور باہمی جنگوں سے لوگ ہلاک ہو رہے ہیں اور اس قدر اسباب موت کے اس زمانہ میں جمع ہوئے ہیں اور اس شدت سے وقوع میں آئے ہیں کہ اس مجموعی حالت کی نظیر کسی پہلے زمانہ میں پائی نہیں جاتی۔ ۱۱۔ گیارھواں نشان ۔ دانیال نبی کی کتاب میں مسیح موعود کے ظہور کا زمانہ وہی لکھا ہے جس میں خدا نے مجھے مبعوث فرمایا ہے اور لکھا ہے کہ اس وقت بہت لوگ پاک کئے جائیں گے اور سفید کئے جائیں گے اور آزمائے جائیں گے لیکن شریر شرارت کرتے رہیں گے اور شریروں میں سے کوئی نہیں سمجھے گا پر دانشور سمجھیں گے اور جس وقت سے دائمی قربانی ۱۲۹۰ موقوف کی جائے گی اور مکر وہ چیز جو خراب کرتی ہے قائم کی جائے گی ایک ہزار دوسونوے دن ۱۳۳۵ ہوں گے یہ مبارک وہ جو انتظار کرتا ہے اور ایک ہزار تین سو پینتیس روز تک آتا ہے ۔“ اس پیشگوئی میں مسیح موعود کی خبر ہے جو آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا۔ سودانیال نبی نے اس کا یہ نشان دیا ہے کہ اس وقت سے جو یہود اپنی رسم قربانی سوختنی کو چھوڑ دیں گے اور دن سے مراد دانیال کی کتاب میں سال ہے اور اس جگہ وہ نبی ہجری سال کی طرف اشارہ کرتا ہے جو اسلامی فتح اور غلبہ کا پہلا سال ہے۔ منہ حاشیہ یہود اپنی کتابوں کی تعلیم کے موافق قربانی سوختنی کے پابند تھے جو ہیکل کے آگے بکرے ذبح کر کے آگ میں جلاتے تھے۔ اس میں شریعت کا راز یہ تھا کہ اسی طرح انسان کو خدا تعالی کے آگے اپنے نفس کی قربانی دینی چاہیے اور نفسانی جذبات اور سرکشیوں کو جلا دینا چاہیے۔ اس قربانی کا عملدرآمد کیا ظاہری طور پر اور کیا باطنی طور پر ۲۰۰ کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں یہود نے ترک کر دیا تھا اور دوسری مکروہات میں مبتلا ہو گئے تھے جیسا کہ ظاہر ہے پس جب حقیقی سوختنی قربانی یہود نے ترک کر دی جس سے مراد خدا کی راہ میں اپنا نفس قربان کرنا اور جذبات نفسانیہ کو جلا دینا ہے تب خدا تعالیٰ کے قہری عذاب نے جسمانی قربانی سے بھی اُن کو محروم کر دیا ۔ پس یہود کی پوری بد چلنی کا وہ زمانہ تھا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث فرمائے گئے ۔ اسی زمانہ میں یہود کا پورا استیصال ہوا اور اسلامی قربانیاں جو حج بیت اللہ میں خانہ کعبہ کے سامنے کی جاتی ہیں یہ دراصل انہیں قربانیوں کے قائم مقام ہیں جو یہود بیت المقدس کے سامنے کرتے تھے۔ صرف فرق یہ ہے کہ اسلام میں سوختنی قربانی نہیں ۔ یہود ایک سرکش قوم تھی۔ اُن کے لئے نفسانی جذبات کو جلا دینا ضروری سمجھ کر یہ نشان ظاہری قربانی میں رکھا گیا تھا۔ اسلام کے لئے اس نشان کی ضرورت نہیں صرف اپنے تئیں خدا کی راہ میں قربان کر دینا کافی ہے۔ منہ