حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 205 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 205

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۰۵ حقيقة الوحي حدیث ضعیف ہے یا امام محمد باقر کا قول ہے۔ بات یہ ہے کہ یہ لوگ ہر گز نہیں چاہتے کہ کوئی پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری ہو یا کوئی قرآن شریف کی پیشگوئی پوری ہو۔ دنیا ختم ہونے تک پہنچ گئی مگر بقول اُن کے اب تک آخری زمانہ کے متعلق کوئی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔ اور اس حدیث سے بڑھ کر اور کونسی حدیث صحیح ہوگی جس کے سر بر محدثین کی تنقید کا بھی احسان نہیں بلکہ اُس نے اپنی صحت کو آپ ظاہر کر کے دکھلا دیا کہ وہ صحت کے اعلیٰ درجہ پر ہے ہمیں خدا کے نشانوں کو قبول نہ کرنا یہ اور بات ہے ورنہ یہ عظیم الشان نشان ہے جو مجھ سے پہلے ہزاروں علماء اور محد ثین اس کے وقوع کے اُمیدوار تھے اور منبروں پر چڑھ چڑھ کر اور رو رو کر اس کو یاد دلایا کرتے تھے چنانچہ سب سے آخر مولوی محمد لکھو کے والے اسی زمانہ میں اسی گرہن کی نسبت اپنی کتاب احوال الآخرت میں ایک شعر لکھ گئے ہیں جس میں مہدی موعود کا وقت بتایا ہے اور وہ یہ ہے۔ تیرھویں چند ستیہویں سورج گرہن ہو ہی اُس سالے اندر ماہ رمضا نے لکھیا بک روایت والے ۱۳۱۱ الها پھر دوسرے بزرگ جن کا شعر صد ہا سال سے مشہور چلا آتا ہے۔ یہ لکھتے ہیں: درس ناشی ہجری دو قرآن خواهد بود از پئے مہدی و دجال نشان خواهد بود یعنی چودھویں صدی میں جب چاند اور سورج کا ایک ہی مہینہ میں گرہن ہوگا تب وہ مہدی معہود اور دجال کے ظہور کا ایک نشان ہوگا۔ اس شعر میں ٹھیک سن کسوف و خسوف درج ہوا ہے۔ ۳۔ تیسرا نشان ۔ ذوالسنین ستارہ کا نکلنا ہے جس کے طلوع ہونے کا زمانہ مسیح موعود کا ۱۹۸ ) وقت مقرر تھا اور مدت ہوئی کہ وہ طلوع ہو چکا ہے اسی کو دیکھ کر عیسائیوں کے بعض انگریزی اخبارات میں شائع ہوا تھا کہ اب مسیح کے آنے کا وقت آگیا۔ ۴۔ چوتھا نشان۔ ایک نئی سواری کا نکلنا ہے جو مسیح موعود کے ظہور کی خاص نشانی ہے لا فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ مِنه شعر میں ستائیسویں کا لفظ سہو کا تب ہے یا خود مولوی صاحب سے باعث بشریت سہو ہو گیا ہے ورنہ جس حدیث کا یہ شعر تر جمہ ہے اُس میں بجائے ستائیس کے اٹھائیسویں تاریخ ہے۔ منہ الحج :۴۷