حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxiii of 830

حقیقةُ الوحی — Page xxiii

خدائے عزّوجلّ کی جو قسمیں دی گئی ہیں ان کے بعد ہر خدا ترس مسلمان آریہ اور عیسائی کا فرض ہو جاتا ہے کہ وہ تقویٰ اور دیانت داری اور غیر جانبداری سے اس کتاب کو اوّل سے آخر تک پڑھے اور اس کے بعد وہ جس نتیجہ پر پہنچے اس کے لئے وہ خدا کے سامنے جوابدہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسلمانوں عیسائیوں اور ہندوؤں کو خدائے ذوالجلال کی قسم دے کر حقیقۃ الوحی کا مطالعہ کرنے کی جتنی تاکید فرمائی ہے اس سے ہم احمدیوں کو احساس ہونا چاہئے کہ ہمارے لئے اس کا مطالعہ کس قدر ضروری ہے۔حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہستی، اسلام کی حقّانیت اور مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت معجزات، نشانات، وحی و الہام ، دعا اور اس کی قبولیت کے بارے میں علم الیقین حاصل کرنے کے لئے ہمارے لئے اس کتاب کا مطالعہ بہت ہی ضروری ہے۔خاص طور پر ہماری نئی نسل کے لئے اور ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ ہم کوشش کر کے اِس کتاب کو اپنے غیر احمدی بھائیوں تک پہنچائیں کیونکہ اس کتاب کے دلائل علمِ کلام کی بحثوں سے بلند، ناقابل تردید حقائق و براہین پر مشتمل ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ضمیمہ حقیقۃ الوحی کے طور پر الاستفتاء کو شامل فرمایا ہے اور اس کے پہلے صفحہ پر یہ نوٹ شامل فرمایا ہے: قد الحقنا ھٰذہ الرسالۃ بکتابنا حقیقۃ الوحی و جعلناھا لہ ضمیمۃً و اشعنا بعضھا علیحدۃً ترجمہ: ہم نے یہ رسالہ اپنی کتاب حقیقۃ الوحی کے ساتھ بطور ضمیمہ شامل کیا ہے اور اس کے بعض نسخے علیحدہ بھی شامل کئے ہیں۔الاستفتاء کے جو نسخے علیحدہ شائع کئے گئے ہیں ان کے آخر پر حضور نے اپنا وہ قصیدہ بمع فارسی ترجمہ بھی شامل کیا ہے جو عِلمی من الرحمٰن ذی الالاء باللّٰہ حُزت الفضل لا بدھاء سے شروع ہوتا ہے۔یہ قصیدہ موجودہ ایڈیشن کے صفحہ ۷۱۶ سے ۷۳۵ تک درج ہے۔خاکسار سید عبد الحی