حقیقةُ الوحی — Page 203
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۰۳ حقيقة الوحي اور بڑا افسوس ہے کہ ہمارے مخالف سراسر تعصب سے یہ اعتراض کرتے ہیں۔ اول یہ کہ حدیث کے لفظ یہ ہیں کہ چاند گرہن پہلی رات میں ہوگا اور سورج گرہن بیچ کے دن میں مگر ایسا نہیں ہوا یعنی اُن کے زعم کے موافق " چاند گرہن شب ہلال کو ہونا چاہیے تھا جو قمری مہینہ کی پہلی رات ہے اور سورج گرہن قمری مہینہ کے پندرھویں دن کو ہونا چاہیے تھا جو مہینہ کا بیچواں دن ہے ۔ مگر اس خیال میں سراسر ان لوگوں کی نا سمجھی ہے کیونکہ دنیا جب سے پیدا ہوئی ہے چاند گرہن کے لئے تین راتیں خدا تعالیٰ کے قانون قدرت میں مقرر ہیں یعنی تیرھویں، چودھویں پندرھویں اور چاند گرہن کی پہلی رات جو خدا کے قانونِ قدرت کے مطابق ہے وہ قمری مہینے کی تیرھویں رات ہے اور سورج کے گرہن کے لئے تین دن خدا کے قانون قدرت میں مقرر ہیں۔ یعنی قمری مہینے کا ستائیسواں ، اٹھائیسواں اور انتیسواں دن ۔ اور سورج کے تین دن گرہن میں سے قمری مہینہ کے رو سے اٹھائیسواں دن بیچ کا دن ہے۔ سو انہیں تاریخوں میں عین حدیث کے منشاء کے موافق سورج اور چاند کا رمضان میں گرہن ہوا۔ یعنی چاند گرہن رمضان کی تیرھویں رات میں ہوا اور سورج گرہن اسی رمضان کے اٹھائیسویں دن ہوا۔ اور عرب کے محاورہ میں پہلی رات کا چاند قمر بھی نہیں کہلاتا بلکہ تین دن تک اُس کا نام ہلال (۱۹۶) ہوتا ہے اور بعض کے نزدیک سات دن تک ہلال کہلاتا ہے۔ دوسرا یہ اعتراض ہے کہ اگر ہم قبول کر لیں کہ چاند کی پہلی رات سے مراد تیرھویں رات ہے اور سورج کے بیچ کے دن سے مراد اٹھائیسواں دن ہے تو اس میں خارق عادت کون سا امر ہوا کیا رمضان کے مہینہ میں کبھی چاند گرہن اور سورج گرہن نہیں ہوا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ رمضان کے مہینہ میں کبھی یہ دونوں گرہن جمع نہیں ہوئے بلکہ یہ مطلب ہے کہ کسی مدعی رسالت یا نبوت کے وقت میں کبھی یہ دونوں گرہن جمع نہیں ہوئے جیسا کہ حدیث کے ظاہر الفاظ اسی پر دلالت کر رہے ہیں۔ اگر کسی کا یہ دعوی ہے کہ کسی مدعی نبوت یا رسالت کے وقت میں یہ دونوں گرہن رمضان میں کبھی کسی زمانہ میں جمع ہوئے ہیں تو اس کا فرض ہے کہ اس کا ثبوت دے۔ خاص کر یہ امر کس کو