حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 199 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 199

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۹۹ حقيقة الوحي پہنا نا دوسری دلیل ہے اور اسلام کی ترقی کے لئے بھی قرآن شریف میں ایک پیشگوئی تھی پھر کیوں اسلام کی ترقی کے لئے جان تو ڑ کر کوشش کی گئی تھی۔ یہاں تک کہ مؤلفۃ القلوب کے لئے کئی لاکھ روپیہ دیا گیا اور اس جگہ تو زمین وغیرہ کے لئے اصل تحریک خود احمد بیگ کی طرف سے تھی۔ پھر سوچنے کا مقام ہے کہ ایک طرف تو یہ دو تین پیشگوئیاں ہیں جو ہمارے مخالف اپنی نابینائی کی وجہ سے بار بار پیش کرتے ہیں جن کا پلید پس خوردہ عبد الحکیم کو بھی کھانا پڑا اور دوسری طرف میری تائید میں خدا تعالیٰ کے نشانوں کا ایک دریا بہہ رہا ہے جس سے یہ لوگ بے خبر نہیں ہیں اور کوئی مہینہ شاذ و نادر ایسا گذرتا ہوگا کہ جس میں کوئی نشان ظاہر نہ ہو۔ ان نشانوں پر کوئی نظر نہیں ڈالتا ۔ نہیں دیکھتے کہ خدا کیا کہہ رہا ہے۔ ایک طرف طاعون بزبانِ حال کہہ رہی ہے کہ قیامت کے دن نزدیک ہیں اور دوسری طرف خارق عادت زلزلے جو کبھی اس طور سے ۱۹۲ اس ملک میں نہیں آئے تھے خبر دے رہے ہیں کہ خدا کا غضب زمین پر بھڑک رہا ہے اور آئے دن ایسی نئی نئی آفات نازل ہوتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے طور بدل گئے ہیں اور ظاہر ہوتا ہے کہ خدا تعالی کوئی بڑی آفت دکھلانی چاہتا ہے اور ہر ایک آفت جو ظاہر ہوتی ہے پہلے سے اس کی مجھے خبر دیجاتی ہے اور میں بذریعہ اخبار یا رسائل یا اشتہار کے اس کو شائع کر دیتا ہوں ۔ چنانچہ میں بار بار کہتا ہوں کہ تو بہ کرو کہ زمین پر اس قدر آفات آنے والی ہیں کہ جیسا کہ نا گہانی طور پر ایک سیاہ آندھی آتی ہے اور جیسا کہ فرعون کے زمانہ میں ہوا کہ پہلے تھوڑے نشان دکھلائے گئے اور آخر وہ نشان دکھلایا گیا جس کو دیکھ کر فرعون کو بھی کہنا پڑا کہ امنت أنه لا إله إلا الَّذِى أَمَنَتْ بم بنا ارایک خدا عناصر اربعہ میں سے ہر ایک عصر میں نشان کے طور پر ایک طوفان پیدا کرے گا اور دنیا میں بڑے بڑے زلزلے آئیں گے یہاں تک کہ وہ زلزلہ آ جائے گا جو قیامت کا نمونہ ہے تب ہر قوم میں ماتم پڑے گا کیونکہ انہوں نے اپنے وقت کو شناخت نہ کیا یہی معنی خدا کے اس الہام کے ہیں کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے ا یونس ۹۱