حقیقةُ الوحی — Page 198
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۹۸ حقيقة الوحى اشارہ کیا گیا تھا کہ اُس کے واقعہ کے بعد ملک میں طاعون پڑے گی اور یہ بھی ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ صرف پیشگوئی نہیں بلکہ یہ واقعہ میری بددعا کا ایک نتیجہ ہو گا کیونکہ اس کی زبان درازیاں انتہا تک پہنچ گئی تھیں پس وہ خدا جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو برباد کرنا نہیں چاہتا اس کا غضب لیکھرام پر نازل ہوا اور اُس کو دردناک عذاب کے ساتھ ہلاک کیا۔ پھر سوچنا چاہیے کہ احمد بیگ کی نسبت جو میری تکذیب کے لئے کمر بستہ تھا اور دن رات ہنسی ٹھٹھا کرتا تھا کس صفائی سے پیشگوئی نے اپنا ظہور کیا اور وہ میعاد کے اندر محرقہ تپ سے ہوشیار پور کے شفا خانہ میں فوت ہو گیا اور اس کے اقارب میں اس کی موت سے تہلکہ برپا ہوا۔ یہ وہی احمد بیگ ہے جس کے داماد کی نسبت اب تک ہمارے مخالف ماتم اور سیا پا کر رہے ہیں کہ کیوں نہیں مرتا اور نہیں جانتے کہ دائیں ٹانگ تو اس پیشگوئی کی احمد بیگ ہی تھا جس نے اپنی (191) جواناں مرگ مرنے سے ثابت کر دیا کہ پیشگوئی سچی ہے اور پھر جیسا کہ پیشگوئی میں لکھا تھا کہ احمد بیگ کی موت کے قریب اور موتیں بھی اُس کے عزیزوں کی ہوں گی وہ امر بھی وقوع میں آگیا اور احمد بیگ کا ایک لڑکا اور دو ہمشیرہ انہیں ایام میں فوت ہو گئے ۔ تو اب ہمارے مخالف بتلاویں که فقرہ آیت يُصِبُكُم بَعْضُ الَّذِى يَعِدُكُم اس پر صادق آیا یا نہیں ۔ پس جبکہ میری بعض وعید کی پیشگوئیوں کی نسبت خودان کو اقرار کرنا پڑتا ہے کہ کمال صفائی سے پوری ہو گئیں تو پھر با وجود اسلام کے دعوے کے کیوں یہ آیت ممدوحہ اُن کے مد نظر نہیں رہتی یعنی يصبكم بعض الذي بعد کم کیا پوشیدہ طور پر ارتداد کے لئے طیاری تو نہیں۔ اور یہ کہنا کہ پیشگوئی کے بعد احمد بیگ کی لڑکی کے نکاح کے لئے کوشش کی گئی اور طمع دی گئی اور خط لکھے گئے۔ یہ مجیب اعتراض ہیں۔ بیچ ہے انسان شدت تعصب کی وجہ سے اندھا ہو جاتا ہے۔ کوئی مولوی اس بات سے بے خبر نہ ہوگا کہ اگر وحی الہی کوئی بات بطور پیشگوئی ظاہر فرمادے اور ممکن ہو کہ انسان بغیر کسی فتنہ اور نا جائز طریق کے اس کو پورا کر سکے تو اپنے ہاتھ سے اس پیشگوئی کا پورا کرنا نہ صرف جائز بلکہ مسنون ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خود اپنا فعل اس کے ثبوت کے لئے کافی ہے اور پھر حضرت عمر کا ایک صحابی کو کڑے