حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 194 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 194

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۹۴ حقيقة الوحي مدت تک بھی اُس کی زندگی نہیں ہوئی بلکہ چند ماہ کے بعد فوت ہو گیا۔ اُس نے بعد اس کے کوئی شوخی نہیں دکھلائی اور جو کچھ اُس کی طرف منسوب کیا جاتا ہے وہ عیسائیوں کا اپنا کرتب ہے۔ غرض نفس پیشگوئی تو اس کی موت تھی اس کے موافق وہ میری زندگی میں ہی مر گیا خدا نے میری عمر بڑھا دی اور اُس کی زندگی کا خاتمہ کر دیا۔ اب اسی بات پر زور دینا کہ وہ میعاد کے اندر نہیں مراکس قدر ظلم اور تعصب ہے۔ اے نادان کیا تو یونس کے قصہ سے بھی بے خبر ہے جس کا ذکر قرآن شریف میں موجود ہے۔ یونس کی پیشگوئی میں کوئی شرط بھی نہیں تھی تب بھی تو بہ واستغفار سے اُس کی قوم بچ گئی حالانکہ اس کی قوم کی نسبت خدا تعالیٰ کا قطعی وعدہ تھا کہ وہ ضرور چالیس دن کے اندر ۱۸۷) ہلاک ہو جائے گی مگر کیا وہ اس پیشگوئی کے مطابق چالیس دن کے اندر ہلاک ہوگئی۔ اگر چاہو تو در منثور میں اُن کا قصہ دیکھ لو یا یو نہ نبی کی کتاب بھی ملاحظہ کرو ۔ حد سے زیادہ کیوں شرارت دکھلاتے ہو ۔ کیا ایک دن مرنا نہیں۔ شوخی اور بد دیانتی ایمان کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتی۔ اور احمد بیگ کے داماد کی نسبت بھی ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ یہ پیشگوئی بھی شرطی تھی ۔ اور شرط کے الفاظ جو ہم اشتہارات میں پہلے سے شائع کر چکے ہیں یہ تھے ايها المرأة توبی توبى فان البلاء علی عقبک یہ الہامی الفاظ ہیں اور اس میں مخاطب اس عورت کی نانی ہے جس کی نسبت یہ پیشگوئی ہے۔ اور ایک مرتبہ میں نے یہ الہام مولوی عبد اللہ صاحب کی اولاد میں سے ایک شخص کو بمقام ہوشیار پور قبل از وقت سنایا تھا شائد اُن کا نام عبدالرحیم تھا یا عبد الواحد تھا۔ اس الہامی عبارت کا ترجمہ یہ ہے۔ اے عورت تو بہ کر تو بہ کر کیونکہ تیری لڑکی اور لڑکی کی لڑکی پر ایک بلا آنے والی ہے اور اس پیشگوئی میں احمد بیگ اور اس کے داماد کی خبر دی گئی تھی چنانچہ احمد بیگ میعاد کے اندر مر گیا * اور اُس عورت کی لڑکی پر بلا حاشیہ: تعجب ہے کہ جو لوگ احمد بیگ کے داماد کا بار بار ذکر کرتے ہیں کبھی وہ یہ زبان پر نہیں لاتے کہ اس پیشگوئی کا ایک حصہ پورا ہو چکا ہے کیونکہ احمد بیگ میعاد کے اندر مر گیا ہے اگر ان میں کچھ دیانت ہوتی تو یوں بیان کرنا چاہیے تھا کہ اس پیشگوئی کے دوحصوں میں سے ایک حصہ پورا ہو چکا ہے اور دوٹانگوں میں سے ایک ٹانگ ٹوٹ گئی ہے مگر تعصب بھی ایک عجیب بلا ہے کہ انصاف کے لفظ کو زبان پر نہیں آنے دیتا۔ منہ