حقیقةُ الوحی — Page xxii
اوّل سے آخر تک حرف حرف پڑھ لیں۔‘‘ (صفحہ ۶۲۰جلد ھٰذا) حضرت مسیح موعود ؑ اپنی کتاب حقیقۃ الوحی کے بارے میں فرماتے ہیں:۔’’ کتاب حقیقۃ الوحی میں ہم نے تمام قسم کی باتوں کو مختصر طور پر جمع کر دیا ہے۔اور اس میں َ قسم دی ہے کہ لوگ کم از کم اوّل سے آخر تک اس کو پڑھ لیں۔دوسرے کی َ قسم کا نہ ماننا بھی تقویٰ کے برخلاف ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی دوسرے کی َ قسم پوری ہونے دی تھی اور حضرت عیسیٰ ؑ نے بھی دوسرے آدمی کی َ قسم کو پورا کیا تھا۔غرض ہم ایک نیک کام کے واسطے قسم دیتے ہیں کہ وہ بلا سوچے سمجھے گالیاں نہ دیں اور مخالفت نہ کریں، کم از کم ہمارے دلائل کو ایک دفعہ بغور مطالعہ کر لیں خواہ تھوڑا تھوڑا کر کے پڑھیں۔پھر ان کو معلوم ہو جائے گا کہ حق کس بات میں ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد۵ صفحہ۱۷۲) ایک اور موقع پر فرمایا۔’’ہماری جماعت کو علمِ دین میں تَفَقُّہ پیدا کرنا چاہئیے۔مگر اس کے وہ معنی نہیں جو عام مُلّاں لوگوں نے سمجھ رکھے ہیں کہ استنجا وغیرہ کے چند مسائل آگئے وہ بھی تقلیدی رنگ میں فقیہ بن بیٹھے۔بلکہ ہمارا مطلب یہ ہے کہ وہ آیاتِ قرآنی و احادیث نبوی اور ہمارے کلام میں تدبّر کریں۔قرآنی معارف و حقائق سے آگاہ ہوں۔اگر کوئی مخالف ان پر اعتراض کرے تو اُسے کافی جواب دے سکیں۔ایک دفعہ جو امتحان لینے کی تجویز کی گئی تھی بہت ضروری تھی۔اس کا ضرور بندوبست ہونا چاہےئے۔حقیقۃ الوحی اس مطلب کے لئے بہت مفید کتاب ہے۔اصل میں مسلمانوں کے لئے تو یہی جواب کافی ہے کہ تم کوئی ایسا اعتراض اس سلسلہ پر کر کے دکھاؤ جو اور انبیاء علیہم السلام پر نہ ہوسکے وہ ہرگز کوئی ایسا اعتراض نہیں کر سکیں گے‘‘۔(ملفوظات جلد۵صفحہ۲۱۱،۲۱۲) حقیقۃ الوحی کے پڑھنے کے بارہ میں تاکید کرتے ہوئے فرمایا:۔’’ہمارے دوستوں کو چاہئیے کہ حقیقۃ الوحی کو اول سے آخر تک بغور پڑھیں بلکہ اس کو یاد کر لیں۔کوئی مولوی ان کے سامنے نہیں ٹھہر سکے گا کیونکہ ہر قسم کے ضروری امور کا اس میں بیان کیا گیا ہے اور اعتراضوں کے جواب دیئے گئے ہیں۔‘‘ (ملفوظات جلد۵ صفحہ۲۳۵)