حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 193 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 193

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۹۳ حقيقة الوحي بھی ہو جائے۔ رجوع ایک ایسا لفظ ہے جو دل کے ساتھ تعلق رکھتا ہے کیا سو اس نے اُسی مجلس میں جس میں ساٹھ یا ستر یا کچھ کم و بیش آدمی موجود تھے پیشگوئی سننے کے بعد آثار رجوع ظاہر کئے یعنی جب میں نے پیشگوئی سنا کر اُس کو یہ کہا کہ تم نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی کتاب میں دجال کہا ہے اُس کی سزا میں یہ پیشنگوئی ہے کہ پندرہ مہینے کے اندر تمہاری زندگی کا خاتمہ ہو گا تب اُس کا رنگ زرد ہو گیا اور اُس نے اپنی زبان باہر نکالی اور دونوں ہاتھ کانوں پر رکھے اور بلند آواز سے کہا کہ میں نے ہرگز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام دجال نہیں رکھا ۔ اس مجلس میں مسلمانوں میں سے ایک رئیس امرتسر کے بھی موجود تھے جن کا نام شاید یوسف شاہ تھا اور بہت سے عیسائی اور مسلمان تھے بالخصوص عیسائیوں (۱۸۲) میں سے ڈاکٹر مارٹن کلارک بھی تھا جس نے بعد میں میرے پر خون کا مقدمہ دائر کیا تھا۔ ان سب کو حلف کے ساتھ پوچھنا چاہیے کہ کیا یہ امر وقوع میں آیا تھا یا نہیں۔ اور اگر در حقیقت یہ الفاظ عبد اللہ آتھم کے منہ سے نکلے تھے تو اب خود سوچنا چاہیے کہ کیا یہ شوخی اور شرارت کے الفاظ تھے یا عجز و نیاز اور رجوع کے الفاظ تھے میں نے تو اس قسم کے عجز و نیاز کے الفاظ اپنی تمام عمر میں کسی عیسائی کے منہ سے نہیں سنے بلکہ اکثر اُن کی کتابیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت گالیوں سے بھری ہوئی دیکھی ہیں پھر جبکہ ایک مخالف شخص نے عین مباحثہ کے وقت میں اس قدر تذلل اور انکسار کے ساتھ دجال کہنے سے انکار کیا اور بعد میں وہ پندرہ مہینہ تک خاموش رہا بلکہ روتا رہا تو پھر کیا وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک اس بات کا حق نہ رکھتا تھا کہ خدا تعالیٰ شرط کے موافق اُس کو فائدہ پہنچاتا پھر بہت اگر کسی کی نسبت یہ پیشگوئی ہو کہ وہ پندرہ مہینہ تک مجزوم ہو جائیگا پس اگر وہ بجائے پندرہ کے بیسویں مہینہ میں مجزوم ہو جائے اور ناک اور تمام اعضا گر جائیں تو کیا وہ مجاز ہوگا کہ یہ کہے کہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔ نفس واقعہ پر نظر چاہیے۔ منہ ان الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ عبد اللہ آتھم نے دجال کہنے سے رجوع کر لیا تھا اور پیشگوئی کا اصل موجب یہی لفظ تھا۔ منہ : حاشیه پیکتہ یا دور کھنے کے لائق ہے کہ عبد اللہ آتھم کی نسبت بھی موت کی پیشگوئی تھی اور لیکھرام کی نسبت بھی موت کی پیشگوئی تھی مگر عبد اللہ آتھم نے عجز و نیاز دکھلا دیا اس لئے اس کی موت میں اصل میعاد سے چند ماہ کی تاخیر واقع ہوئی اور لیکھرام نے پیشگوئی سننے کے بعد شوخی ظاہر کی اور بازاروں اور مجمعوں میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا رہا اس لئے قبل اس کے کہ اس کی اصل میعاد بھی پوری ہوتی وہ پکڑا گیا اور ابھی ایک سال باقی رہتا تھا کہ وہ مارا گیا۔ عبداللہ آتھم سے خدا تعالیٰ نے اپنی جمالی صفت کوظاہر کیا اور کھر ام سے جلالی صفت کو ۔ وہ قادر ہے کم بھی کر سکتا ہے اور زیادہ بھی۔ منہ