حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 186 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 186

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۸۶ حقيقة الوحي (۱۸۰) رسول کے حکم کو نہیں مانتا وہ بموجب نصوص صریحہ قرآن اور حدیث کے خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا اور اس میں شک نہیں کہ جس پر خدا تعالیٰ کے نزدیک اول قسم کفر یا دوسری قسم کفر کی نسبت اتمام حجت ہو چکا ہے وہ قیامت کے دن مواخذہ کے لائق ہوگا اور جس پر خدا کے نزدیک اتمام حجت نہیں ہوا اور وہ مکذب اور منکر ہے تو گوشریعت نے (جس کی بنا ظاہر پر ہے ) اُس کا نام بھی کا فر ہی رکھا ہے اور ہم بھی اُس کو باتباع شریعت کافر کے نام سے ہی پکارتے ہیں مگر پھر بھی وہ خدا کے نزدیک بموجب آیت لَا يُكَلَّفَ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا قابل مواخذہ نہیں ہوگا۔ ہاں ہم اس بات کے مجاز نہیں ہیں کہ ہم اُس کی نسبت نجات کا حکم دیں اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے ہمیں اس میں دخل نہیں اور جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں یہ علم محض خدا تعالیٰ کو ہے کہ اس کے نزدیک با وجود دلائل عقلیہ اور نقلیہ اور عمدہ تعلیم اور آسمانی نشانوں کے کس پر ابھی تک اتمام حجت نہیں ہوا۔ ہمیں دعوے سے کہنا نہیں چاہیے کہ فلاں شخص پر اتمام حجت نہیں ہوا ہمیں کسی کے باطن کا علم نہیں ہے اور چونکہ ہر ایک پہلو کے دلائل پیش کرنے اور نشانوں کے دکھلانے سے خدا تعالیٰ کے ہر ایک رسول کا یہی ارادہ رہا ہے کہ وہ اپنی حجت لوگوں پر پوری کرے اور اس بارے میں خدا بھی اس کا مؤید رہا ہے اس لئے جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ مجھ پر حجت پوری نہیں ہوئی کہ وہ اپنے انکار کا ذمہ وار آپ ہے اور اس بات کا بار ثبوت اُسی کی گردن پر ہے اور وہی اس بات کا جواب دہ ہوگا کہ باوجود دلائل عقلیہ اور نقلیہ اور عمدہ تعلیم اور آسمانی اس مقام میں یہ بھی تو دیکھنا چاہیے کہ جس دین کو ایسا شخص اختیار کر رہا ہے وہ دین ہمقابلہ اسلام کس قسم کی تو حید اور عظمت حضرت باری پیش کرتا ہے عجیب بات ہے کہ ایسے لوگ جن کے دین میں نہ خدا کی عظمت ہے، نہ خدا کی توحید، نہ خدا کی شناخت کی کوئی راہ وہ کیوں کر کہہ سکتے ہیں کہ ہم پر دین اسلام کی حجت پوری نہیں ہوئی۔ ایک عیسائی جو صرف ایک عاجز انسان کو خدا مانتا ہے یا ایک آریہ جس کے نزدیک نہ خدا خالق ہے، نہ تازہ نشانوں سے اپنا ثبوت دے سکتا ہے وہ کس منہ سے کہہ سکتا ہے کہ بہ نسبت اسلام میرا دین اچھا ہے ۔ کیا وہ اپنے مذہب کی خوبی دکھلانے کے لئے نیوگ کو پیش کرے گا جس میں باوجود زندہ ہونے ایک عورت کے خاوند کے دوسرا شخص اُس سے ہم بستر ہوسکتا ہے ۔ منہ البقرة : ۲۸۷