حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxi of 830

حقیقةُ الوحی — Page xxi

تفصیل اس کتاب میں ملتی ہے۔حضور فرماتے ہیں:۔’’اِس میں کیا بھید ہے کہ بد اور بدکار اور خائن اور کذّاب تو مَیں تھا مگر میرے مقابل پر ہر ایک فرشتہ سیرت جب آیا تو وہی مارا گیا جس نے مباہلہ کیا وہی تباہ ہوا جس نے میرے پر بددُعا کی وہ بددعا اسی پر پڑی جس نے میرے پر کوئی مقدمہ عدالت میں دائر کیا اُسی نے شکست کھائی۔۔۔۔۔۔پس برائے خدا سوچو کہ یہ اُلٹا اثر کیوں ظاہر ہوا کیوں میرے مقابل پر نیک مارے گئے اور ہر ایک مقابلہ میں خدا نے مجھے بچا لیا۔کیا اس سے میری کرامت ثابت نہیں ہوتی ؟‘‘ (صفحہ ۲ جلد ھٰذا) حضور نے یہ کتاب لکھ کر مسلمانوں آریوں اور عیسائیوں کو نہایت دردمندانہ طور پر اس کتاب کے مطالعہ کی دعوت دی ہے۔حضور مسلمانوں کو مخاطب کر کے تحریر فرماتے ہیں:۔’’مَیں اپنی عزیز قوم کے اکابر علماء اور مشائخ اور ان سب کو جو اس کتاب کو پڑھ سکتے ہیں خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کہ اگر ان کو یہ کتاب پہنچے تو ضرور اوّل سے آخر تک اس کتاب کو غور سے پڑھ لیں اور مَیں پھر ان کو اس خدائے لاشریک کی دوبارہ قسم دیتا ہوں جس کے ہاتھ میں ہر ایک کی جان ہے کہ وہ اپنے اوقات اور مشاغل کا حرج بھی کر کے ایک دفعہ غور اور تدبّر سے اس کتاب کو اوّل سے آخر تک پڑھ لیں۔اور پھر مَیں تیسری دفعہ اُس غیّور خدا کی اُن کو قسم دیتا ہوں جو اُس شخص کو پکڑتا ہے جو اُس کی قسموں کی پروا نہیں کرتا کہ ضرور ایسے لوگ جن کو یہ کتاب پہنچے اور وہ اس کو پڑھ سکتے ہوں خواہ وہ مولوی ہیں یا مشائخ اوّل سے آخر تک ایک مرتبہ اس کو ضرور پڑھ لیں۔‘‘ (صفحہ ۶۱۲ جلد ھٰذا) آریوں اور ہندوؤں کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں:۔’’میں آپ لوگوں کو اُس پرمیشر کی قسم دیتا ہوں جس پر ایمان لانا آپ لوگ اپنی زبان سے ظاہر کرتے ہیں کہ ایک دفعہ اوّل سے آخر تک میری اس کتاب کو پڑھو اور ان نشانوں پر غور کرو جو اس میں لکھے گئے ہیں پھر اگر اپنے مذہب میں اس کی نظیر نہ پاؤ تو خدا سے ڈر کر اس مذہب کو چھوڑ دو اور اسلام کو قبول کرو۔‘‘ (صفحہ ۶۱۶ جلد ھٰذا) اور عیسائیوں کو اسلام کی دعوت دے کر فرماتے ہیں:۔’’اے پادری صاحبان! مَیں آپ لوگوں کو اس خدا کی قسم دیتا ہوں جس نے مسیح کو بھیجا اور اس محبت کو یاد دلاتا ہوں اور قسم دیتا ہوں جو آپ لوگ اپنے زعم میں حضرت یسوع مسیح ابن مریم سے رکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ ضرور میری کتاب حقیقۃ الوحی کو