حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 182 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 182

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۸۲ حقيقة الوحي کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ہی غالب رہوں گا۔ کیا کوئی ہے؟!! کہ اس امتحان میں میرے مقابل پر آوے۔ ہزار ہانشان خدا نے محض اس لئے مجھے دیئے ہیں کہ تا دشمن معلوم کرے کہ دین اسلام سچا ہے۔ میں اپنی کوئی عزت نہیں چاہتا بلکہ اس کی عزت چاہتا ہوں جس کے لئے میں بھیجا گیا ہوں۔ بعض نادان کہتے ہیں کہ فلاں فلاں پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اور اپنی جہالت سے ایک دو پیشگوئیوں کا ذکر کرتے ہیں کہ وہ پوری نہیں ہوئیں جیسا کہ شریر آدمی پہلے نبیوں کے وقت میں ایسا ہی کرتے آئے ہیں مگر وہ آفتاب پر تھوکنا چاہتے ہیں اور اپنے جھوٹ ۷۷ اور افترا سے اپنی بات کو رنگ دے کر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں ۔ اُن کو خدا تعالیٰ کی سنت کی خبر نہیں ۔ ان کو خدا تعالی کی کتابوں کا علم نہیں یا کسی کو علم ہے اور محض شرارت سے ایسا کہتا ہے۔ اُن کے نزدیک تو گویا یونس نبی بھی جھوٹا تھا جس کی قطعی پیشگوئی جس کے ساتھ کوئی شرط نہ تھی پوری نہ ہوئی ۔ مگر میری دو پیشگوئیاں جن کو وہ بار بار پیش کرتے ہیں یعنی آتھم اور احمد بیگ کے داماد کی نسبت وہ اپنے شرائط کے لحاظ سے پوری ہوگئی ہیں کیونکہ اُن کے ساتھ شرطیں تھیں۔ ان شرطوں کے لحاظ سے تاخیر ہوئی۔ ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ وعید کی پیشگوئیوں میں ضروری نہیں ہوتا کہ وہ پوری ہو جائیں۔ اس پر تمام انبیاء کا اتفاق ہے اور میں اس بارہ میں زیادہ لکھنا نہیں چاہتا کیونکہ اس کی تفصیل میں میری کتا بیں بھری پڑی ہیں۔ آتھم تو بموجب پیشگوئی کے فوت ہو گیا اور احمد بیگ بھی بموجب پیشگوئی کے فوت ہو گیا۔ اب اُس کے داماد کی نسبت روتے ہیں اور وعید کی پیشگوئیوں کی نسبت جو سنت اللہ ہے اُس کو بھول جاتے ہیں۔ اگر شرم اور حیا اور انصاف ہے تو دو فردیں بنا کر ایک فرد میں وہ پیشگوئیاں لکھیں جو اُن کی دانست میں پوری نہیں ہوئیں اور دوسری فرد میں وہ پیشگوئیاں ہم تحریر کریں گے جن سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ تب ان کو معلوم ہوگا کہ وہ ایک دریا کے مقابل پر جو نہایت مصفا ہے ایک قطرہ پیش کرتے ہیں جو اُن کے نزدیک مصفا نہیں۔