حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 181 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 181

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۸۱ حقيقة الوحي اتمام حجت کو کون جانتا ہے اُس نے اپنے نبی کریم کی سچائی ثابت کرنے کے لئے زمین و آسمان نشانوں سے بھر دیا ہے اور اب اس زمانہ میں بھی خدا نے اس ناچیز خادم کو بھیج کر ہزار ہانشان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کے لئے ظاہر فرمائے ہیں جو بارش کی طرح برس رہے ہیں تو پھر اتمام حجت میں کونسی کسر باقی ہے۔ جس شخص کو مخالفت کرنے کی عقل ہے وہ کیوں موافقت کی راہ کو سوچ نہیں سکتا اور جو رات کو دیکھتا ہے کیوں اُس کو روز روشن میں نظر نہیں آتا حالانکہ تکذیب کی راہوں کی نسبت تصدیق کی راہ بہت سہل ہے ہاں جو شخص ۱۷۶ مسلوب اعقل کی طرح ہے اور انسانی قوتوں سے کم حصہ رکھتا ہے اس کا حساب خدا کے سپرد کرنا چاہیے اس کے بارہ میں ہم کلام نہیں کر سکتے ۔ وہ اُن انسانوں کی طرح ہے جو خوردسالی اور بچپن میں مرجاتے ہیں مگر ایک شریر مکذب یہ عذر نہیں کر سکتا کہ میں نیک نیتی سے تکذیب کرتا ہوں۔ دیکھنا چاہیے کہ اس کے حواس اس لائق ہیں یا نہیں کہ مسئلہ تو حید اور رسالت کو سمجھ سکے ۔اگر معلوم ہوتا ہے کہ سمجھ سکتا ہے مگر شرارت سے تکذیب کرتا ہے تو وہ کیونکر معذور رہ سکتا ہے۔ اگر کوئی آفتاب کی روشنی کو دیکھ کر یہ کہے کہ دن نہیں بلکہ رات ہے تو کیا ہم اُس کو معذور سمجھ سکتے ہیں ۔ اسی طرح جو لوگ دانستہ کسی بھی کرتے ہیں اور اسلام کے دلائل کو تو ڑ نہیں سکتے کیا ہم خیال کر سکتے ہیں کہ وہ معذور ہیں۔ اور اسلام تو ایک زندہ مذہب ہے جو شخص زندہ اور مردہ میں فرق کر سکتا ہے وہ کیوں اسلام کو ترک کرتا اور مردہ مذہب کو قبول کرتا ہے خدا تعالیٰ اس زمانہ میں بھی اسلام کی تائید میں بڑے بڑے نشان ظاہر کرتا ہے اور جیسا کہ اس بارہ میں میں خود صاحب تجربہ ہوں اور میں دیکھتا ہوں کہ اگر میرے مقابل پر تمام دنیا کی قو میں جمع ہو جائیں اور اس بات کا بالمقابل امتحان ہو کہ کس کو خدا غیب کی خبریں دیتا ہے اور کس کی دعائیں قبول کرتا ہے اور کس کی مدد کرتا ہے اور کس کے لئے بڑے بڑے نشان دکھاتا ہے تو میں خدا جو شخص بے دلیل ایک انسان کو خدا بناتا ہے یا بے دلیل خدا کو خالق ہونے سے جواب دیتا ہے کیا وہ اسلام کی سچائی کے صاف صاف دلائل سمجھ نہیں سکتا۔ منه