حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 165 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 165

روحانی خزائن جلد ۲۲ حقيقة الوحى اور کوئی حصہ دنیا کا اس کی تکذیب کرتا ہے تب اُس کا مبعوث ہونا دوسرے شریر لوگوں کی سزا ﴿۱۲﴾ دینے کے لئے بھی جو پہلے مجرم ہو چکے ہیں ایک محرک ہو جاتا ہے اور جو شخص اپنے گذشتہ گنا ہوں کی سزا پاتا ہے اُس کے لئے اس بات کا علم ضروری نہیں کہ اس زمانہ میں خدا کی طرف سے کوئی نبی یا رسول بھی موجود ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى تَبْعَثَ رَسُولًا پس اس سے زیادہ میرا مطلب نہ تھا کہ ان زلزلوں کا موجب میری تکذیب ہو سکتی ہے ۔ یہی قدیم سے سنت اللہ ہے جس سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا سوسان فرانسسکو وغیرہ مقامات کے رہنے والے جو زلزلہ اور دوسری آفات سے ہلاک ہو گئے ہیں اگر چہ اصل سبب اُن پر عذاب نازل ہونے کا اُن کے گذشتہ گناہ تھے مگر یہ زلزلے اُن کو ہلاک کرنے والے میری سچائی کا ایک نشان تھے کیونکہ قدیم سنت اللہ کے موافق شریر لوگ کسی رسول کے آنے کے وقت ہلاک کئے جاتے ہیں اور نیز اس وجہ سے کہ میں نے براہین احمدیہ اور بہت سی اپنی کتابوں میں یہ خبر دی تھی کہ میرے زمانہ میں دنیا میں بہت سے غیر معمولی زلزلے آئیں گے اور دوسری آفات بھی آئیں گی اور ایک دنیا اُن سے ہلاک ہو جائے گی ۔ پس اس میں کیا شک ہے کہ میری پیشگوئیوں کے بعد دنیا میں زلزلوں اور دوسری آفات کا سلسلہ شروع ہو جانا میری سچائی کے لئے ایک نشان ہے۔ یادر ہے کہ خدا کے رسول کی خواہ کسی حصہ زمین میں تکذیب ہومگر اس تکذیب کے وقت دوسرے مجرم بھی پکڑے جاتے ہیں جو اور ملکوں کے رہنے والے ہیں جن کو اس رسول کی خبر بھی نہیں۔ جیسا کہ نوح کے وقت میں ہوا کہ ایک قوم کی تکذیب سے ایک دنیا پر عذاب آیا بلکہ پرند چرند بھی اس عذاب سے باہر نہ رہے۔ غرض عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ جب کسی صادق کی حد سے زیادہ تکذیب کی جائے یا اُس کو ستایا جائے تو دنیا میں طرح طرح کی بلائیں آتی ہیں۔ خدا تعالیٰ کی تمام کتابیں یہی بیان فرماتی ہیں اور قرآن شریف یہی فرماتا ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ کی تکذیب کی وجہ سے مصر کے ملک پر طرح طرح کی آفات نازل ہوئیں ۔ جوئیں برسیں، بنی اسرائیل : ۱۶