حقیقةُ الوحی — Page 159
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۵۹ حقيقة الوح بہر حال یہ دونوں فرقے قائل ہیں کہ آنے والا مسیح جو آخری زمانہ میں آئے گا اپنے جلال (۱۵۵ اور قوی نشانوں کے لحاظ سے پہلے صبح یا پہلی آمد سے افضل ہے اور اسلام نے بھی آخری مسیح کا نام حکم رکھا ہے اور تمام دنیا کے مذاہب کا فیصلہ کرنے والا اور محض اپنے دم سے کفار کو مارنے والا قرار دیا ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ خدا اُس کے ساتھ ہوگا اور اُس کی توجہ اور دعا بجلی کا کام کرے گی اور وہ ایسی اتمام حجت کرے گا کہ گویا ہلاک کر دے گا۔ غرض نہ اہل کتاب نہ اہل اسلام اس بات کے قائل ہیں کہ پہلا مسیح آنے والے مسیح سے افضل ہے۔ یہود تو دو مسیح قرار دے کر آخری مسیح کو نہایت افضل سمجھتے ہیں اور جو لوگ اپنی غلط فہمی سے صرف ایک ہی مسیح مانتے ہیں وہ بھی دوسری آمد کو نہایت جلالی آمد قرار دیتے ہیں اور پہلی آمد کو اس کے مقابل پر کچھ بھی چیز نہیں سمجھتے ۔ پھر جبکہ خدا نے اور اُس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اُس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو ۔ عزیز و! جبکہ میں نے یہ ثابت کر دیا کہ مسیح ابن مریم فوت ہو گیا ہے اور آنے والا مسیح میں ہوں تو اس صورت میں جو شخص پہلے مسیح کو افضل سمجھتا ہے اُس کو نصوص حدیثیہ اور قرآنیہ سے ثابت کرنا چاہیے کہ آنے والا مسیح کچھ چیز ہی نہیں نہ نبی کہلا سکتا ہے نہ علم ۔ جو کچھ ہے پہلا ہے۔ خدا نے اپنے وعدہ کے موافق مجھے بھیج دیا اب خدا سے لڑو ۔ ہاں میں صرف نبی نہیں بلکہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے اُمتی بھی تا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ اور کمال فیضان ثابت ہو۔ سوال(۲) حضور عالی نے سکیڑوں بلکہ ہزاروں جگہ لکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کے لئے تلوار نہیں اُٹھائی مگر عبدالحکیم کو جو خط تحریر فرمایا ہے اس میں یہ فقرہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دین اسلام کی دعوت کے لئے زمین میں خون کی نہریں چلا دیں اس کا کیا مطلب ہے ۔ الجواب ۔ میں اب بھی کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دین اسلام کو جبرا نہیں پھیلایا اور جو تلوار اُٹھائی گئی وہ اس لئے نہیں تھی کہ دھمکی دے کر اسلام قبول کرایا جائے بلکہ اس میں دوامر