حقیقةُ الوحی — Page 149
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۴۹ حقيقة الوح ذات ہے جس نے قرآن شریف بھیجا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ تب بھی یہ (۱۳۵) آیت مخالف کو مفید نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کو ماننا نجات کے لئے کافی ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اللہ پر جو خدا تعالیٰ کا اسم اعظم ہے اور مجمع جميع صفات کاملہ حضرت عزت ہے ایمان لائے گا تو خدا اُس کو ضائع نہیں کرے گا اور کشاں کشاں اس کو اسلام کی طرف لے آئے گا کیونکہ ایک سچائی دوسری سچائی میں داخل ہونے کے لئے مدد دیتی ہے اور اللہ تعالیٰ پر خالص ایمان لانے والے آخر حق کو پالیتے ہیں۔ قرآن شریف میں یہ وعدہ ہے کہ جو شخص بچے دل سے خدا تعالیٰ پر ایمان لائے گا خدا اُس کو ضائع نہیں کرے گا اور حق اُس پر کھول دے گا اور راہ راست اُس کو دکھائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا پس اس آیت کے یہ معنی ہوئے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والا ضائع نہیں کیا جاتا آخر اللہ تعالیٰ پوری ہدایت اُس کو کر دیتا ہے چنانچہ صوفیوں نے صد ہا مثالیں اس کی لکھی ہیں کہ بعض غیر قوم کے لوگ جب کمال اخلاص سے خدا تعالیٰ پر ایمان لائے اور اعمال صالحہ میں مشغول ہوئے تو خدا تعالیٰ نے اُن کو اُن کے اخلاص کا یہ بدلہ دیا کہ اُن کی آنکھیں کھول دیں اور خاص اپنی دستگیری سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اُن پر ظاہر کر دی۔ یہی معنی اس آیت کے آخری فقرہ کے ہیں فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ کے خدا تعالیٰ کا اجر جب تک دنیا میں ظاہر نہیں ہوتا آخرت میں بھی ظاہر نہیں ہوتا ۔ پس دنیا میں خدا پر ایمان لانے کا یہ اجر ملتا ہے کہ ایسے شخص کو خدا تعالیٰ پوری ہدایت بخشتا ہے اور ضائع نہیں کرتا۔ اسی کی طرف یہ آیت بھی اشارہ کرتی ہے وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْ مِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِم یعنی وہ لوگ جو در حقیقت اہل کتاب ہیں اور سچے دل سے خدا پر اور اُس کی کتابوں پر ایمان لاتے اور عمل کرتے ہیں وہ آخر کار اس نبی پر ایمان لے آئیں گے ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ہاں خبیث آدمی جن کو اہل کتاب نہیں کہنا چاہیے وہ ایمان نہیں لاتے ۔ ایسا ہی سوانح اسلام میں اس کی بہت سی ل العنكبوت: ٧٠ ٢ البقرة: ۲۷۵ ۳ النساء: ۱۲۰