حقیقةُ الوحی — Page 140
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۴۰ حقيقة الوح ۱۳۷ اموال محبوبہ مرغوبہ میں سے کچھ خدا تعالیٰ کی راہ میں دیوے تو یہ کچھ کمال نہیں ہے کمال تو یہ ہے کہ ماسوی سے بکلی دست بردار ہو جائے اور جو کچھ اُس کا ہے وہ اُس کا نہیں بلکہ خدا کا ہو جائے۔ یہاں تک کہ جان بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں فدا کرنے کے لئے طیار ہو کیونکہ وہ بھی مِمَّا رَزَقْنُهُمْ میں داخل ہے۔ خدا تعالیٰ کا منشاء اُس کے قول مما رزقنا سے صرف درہم و دینار نہیں ہے بلکہ یہ بڑا وسیع لفظ ہے جس میں ہر ایک وہ نعمت داخل ہے جو انسان کو دی گئی ہے۔ غرض اس جگہ بھی هُدًى لِلْمُتَّقِينَ فرمانے سے خدا تعالی کا یہ منشاء ہے کہ جو کچھ انسان کو ہر ایک قسم کی نعمت مثلاً اُس کی جان اور صحت اور علم اور طاقت اور مال وغیرہ میں سے دیا گیا ہے اس کی نسبت انسان اپنی کوشش سے صرف مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ تک اپنا اخلاص ظاہر کر سکتا ہے اور اس سے بڑھ کر بشری قوتیں طاقت نہیں رکھتیں لیکن خدا تعالیٰ کا قرآن شریف پر ایمان لانے والے کے لئے اگر وہ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ کی حد تک اپنا صدق ظاہر کرے گا بموجب آیت هُدًى لِلْمُتَّقِينَ کے یہ وعدہ ہے کہ خدا تعالی اس قسم کی عبادات میں بھی کمال تک اُس کو پہنچادے گا اور کمال یہ ہے کہ اُس کو یہ قوت ایثار بخشتی جائے گی کہ وہ شرح صدر سے یہ سمجھ لے گا کہ جو کچھ اُس کا ہے خدا کا ہے اور کبھی کسی کو محسوس نہیں کرائے گا کہ یہ چیزیں اُس کی تھیں جس کے ذریعہ سے اُس نے نوع انسان کی خدمت کی مثلاً احسان کے ذریعہ سے بھی انسان کسی کو محسوس کراتا ہے کہ اُس نے اپنا مال دوسرے کو دیا مگر یہ ناقص حالت ہے کیونکہ وہ تبھی محسوس کرے گا کہ جب اُس چیز کو اپنی چیز سمجھے گا ۔ پس جب بموجب آیت هُدًى لِلْمُتَّقِينَ کے خدا تعالی قرآن شریف پر اس کا سبب یہ ہے کہ باعث ضعف بشریت انسان کی فطرت میں ایک بخل بھی ہے کہ اگر ایک پہاڑ سونے کا بھی اُس کے پاس ہو تب بھی ایک حصہ بخل کا اُس کے اندر ہوتا ہے اور نہیں چاہتا کہ اپنا تمام مال اپنے ہاتھ سے چھوڑ دے لیکن جب بموجب آیت هُدًى لِلْمُتَّقِينَ کی ایک وہی قوت اُس کے شامل حال ہو جاتی ہے تو پھر ایسا انشراح صدر ہو جاتا ہے کہ تمام بخل اور سارا شُح نفس دور ہو جاتا ہے تب خدا کی رضا جوئی ہر ایک مال سے زیادہ پیاری معلوم ہوتی ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ زمین پر فانی خزانے جمع کرے بلکہ آسمان پر اپنا مال جمع کرتا ہے۔ منہ البقرة :٣