حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 136 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 136

۱۳۳ روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۳۶ حقيقة ا اور نیز اُن کتابوں پر ایمان لاتے ہیں جو تجھ سے پہلے نازل ہوئیں وہی لوگ خدا کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور وہی ہیں جو نجات پائیں گے۔ اب اُٹھو اور آنکھ کھولو اے میاں عبد الحکیم مرتد ! کہ خدا تعالیٰ نے ان آیات میں فیصلہ کر دیا ہے اور نجات پانا صرف اسی بات میں حصر کر دیا ہے کہ لوگ خدا تعالیٰ کی کتابوں پر ایمان لا دیں اور اس کی بندگی کریں۔ خدا تعالیٰ کے کلام میں تناقض اور اختلاف نہیں ہو سکتا پس جبکہ اللہ جل شانہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت سے نجات کو وابستہ کر دیا ہے تو پھر بے ایمانی ہے کہ ان آیات قطعیۃ الدلالت سے انحراف کر کے متشابہات کی طرف دوڑیں۔ متشابہات کی طرف وہی لوگ دوڑتے ہیں جن کے دل نفاق کی مرض سے بیمار ہوتے ہیں۔ اور ان آیات میں جو معرفت کا نکتہ مخفی ہے وہ یہ ہے کہ آیات ممدوحہ ہالا میں خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ الم ذَلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ - یعنی یه وه کتاب ہے جو خدا تعالیٰ کے علم سے ظہور پذیر ہوتی ہے اور چونکہ اس کا علم جہل اور نسیان سے پاک ہے اس لئے یہ کتاب ہر ایک شک و شبہ سے خالی ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ کا علم انسانوں کی تعمیل کے لئے اپنے اندر ایک کامل طاقت رکھتا ہے اس لئے یہ کتاب متقین کے لئے ایک کامل ہدایت ہے جو اور اُن کو اس مقام تک پہنچاتی ہے جو انسانی فطرت کی ترقیات کے لئے آخری مقام ہے اور خدا ان آیات میں فرماتا ہے کہ متقی وہ ہیں کہ جو پوشیدہ خدا پر ایمان لاتے ہیں اور نماز کو قائم کرتے ہیں اور اپنے مالوں میں سے کچھ خدا کی راہ میں دیتے ہیں حمد جب تک کسی کتاب کے علل اربعہ کامل نہ ہوں وہ کتاب کامل نہیں کہلا سکتی۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے ان آیات میں قرآن شریف کے علل اربعہ کا ذکر فرما دیا ہے اور وہ چار ہیں (۱) علت فاعلی (۲) علت مادی (۳) علت صوری (۴) علت غائی ۔ اور ہر چہار کامل درجہ پر ہیں ۔ پس التم علت فاعلی کے کمال کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کے معنی ہیں انا اللہ اعلم یعنی کہ میں جو خدائے عالم الغیب ہوں میں نے اس کتاب کو اتارا ہے۔ پس چونکہ خدا اس کتاب کی علت فاعلی ہے اس لئے اس کتاب کا فاعل ہر ایک فائل سے زبر دست اور کامل ہے ۔ اور علت مادی کے کمال کی طرف اشارہ کرتا ہے یہ فقرہ کہ ذالک الکتب یعنی یہ وہ کتاب ہے جس نے خدا کے علم سے خلعت وجود پہنا ہے البقرة: ٢، ٣