حقیقةُ الوحی — Page 133
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۳۳ حقيقة (۱۴) قوله تعالى وَالَّذِينَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ وَأَمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ كَفَرَ عَنْهُمْ سَيَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ (الجز نمبر ۳۶ سوره محمد) ترجمہ: جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے اور وہ کلام جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل (۱۳۰) ہوا اس پر ایمان لائے اور وہی حق ہے ایسے لوگوں کے خدا گناہ بخش دے گا اور اُن کے دلوں کی اصلاح کرے گا۔ اب دیکھو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی وجہ سے کس قدر خدا تعالیٰ اپنی خوشنودی ظاہر فرماتا ہے کہ اُن کے گناہ بخشتا ہے اور اُن کے تزکیہ نفس کا خود متکفل ہوتا ہے۔ پھر کیسا بد بخت وہ شخص ہے جو کہتا ہے کہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں اور غرور اور تکبر سے اپنے تئیں کچھ سمجھتا ہے۔ سعدی نے سچ کہا ہے: محال ست سعدی که راه صفا توان رفت جز در پئے مصطفے برد مهر آن شاہ سوئے بہشت حرام است بر غیر ہوئے بہشت (۱۵) قوله تعالى اَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّهُ مَنْ يُحَادِدِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَأَنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيهَا ذَلِكَ الْخِزى الْعَظيم المجز و نمره اسورة توبه ترجمہ : کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ جو شخص خدا اور رسول کی مخالفت کرے خدا اس کو جہنم میں ڈالے گا اور وہ اس میں ہمیشہ رہے گا یہ ایک بڑی رُسوائی ہے۔ اب بتلاویں میاں عبد الحکیم خان کہ اُن کی کیا رائے ہے۔ کیا خدا کے اس حکم کو قبول کریں گے یا بہادری سے ان آیتوں کے وعید کو اپنے سر پر لے لیں گے۔ (١٦) قوله تعالى وَإِذْ اَخَذَ اللهُ مِيْثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا أَتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَبٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُصَدِّقُ لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُ بِهِ وَ لَتَنْصُرُنَّهُ قَالَ ء أَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ اِصْرِى قَالُوا اَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُمْ مِنَ الشَّهِدِينَ " (الجز نمبر ( ) ترجمہ: اور یاد کر جب خدا نے تمام رسولوں سے عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت دوں گا۔ اور پھر تمہارے پاس آخری زمانہ میں میرا رسول آئے گا جو تمہاری کتابوں کی تصدیق کرے گا۔ تمہیں اُس پر ایمان لانا ہو گا اور اُس کی مدد کرنی ہوگی اور کہا کیا تم نے اقرار کر لیا اور اس عہد پر استوار ا محمد ۳ التوبة : ٦٣ ال عمران :۸۲