حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 125 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 125

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۲۵ حقيقة الوح سنا دیا۔ اور پھر ایسا ہوا کہ قریباً بین پچھیں دن کے عرصہ میں دو بیٹے اُس کے مر گئے اور آخر یہ ۱۲۲۶ ہے اتفاق ہوا کہ آتما رام سزائے قید تو مجھ کو نہ دے سکا اگر چہ فیصلہ لکھنے میں اُس نے قید کرنے کی بنیاد بھی باندھی مگر خیر پر خدا نے اس کو اس حرکت سے روک دیا لیکن تاہم اس نے سات سو روپیہ جرمانہ کیا۔ پھر ڈویژنل جج کی عدالت سے عزت کے ساتھ میں بری کیا گیا اور کرم دین پر سزا قائم رہی اور میرا جرمانہ واپس ہوا مگر آتما رام کے دو بیٹے واپس نہ آئے۔ پس جس خوشی کے حاصل ہونے کی کرم دین کے مقدمہ میں ہمارے مخالف مولویوں کو تمنا تھی وہ پوری نہ ہوسکی اور خدا تعالیٰ کی اس پیشگوئی کے مطابق جو میری کتاب مواہب الرحمن میں پہلے سے چھپ کر شائع ہو چکی تھی میں بری کیا گیا اور میراجر مانہ واپس کیا گیا اور حاکم مجوز کو منسوخی حکم کے ساتھ یہ تنبیہ ہوئی کہ یہ حکم اُس نے بے جا دیا مگر کرم دین کو جیسا کہ میں مواہب الرحمن میں شائع کر چکا تھا سزا مل گئی اور عدالت کی رائے سے اُس کے کذاب ہونے پر مہر لگ گئی اور ہمارے تمام مخالف مولوی اپنے مقاصد میں نامرادر ہے۔ افسوس کہ میرے مخالفوں کو باوجوداس قدر متواتر نامرادیوں کے میری نسبت کسی وقت محسوس نہ ہوا کہ اس شخص کے ساتھ درپردہ ایک ہاتھ ہے جو ان کے ہر ایک حملہ سے اس کو بچاتا ہے۔ اگر بد قسمتی نہ ہوتی تو اُن کے لئے یہ ایک معجزہ تھا کہ اُن کے ہر ایک حملہ کے وقت خدا نے مجھ کو ان کے شر سے بچایا اور نہ صرف بچایا بلکہ پہلے اس سے خبر بھی دے دی کہ وہ بچائے گا اور ہر ایک مرتبہ اور ہر ایک مقدمہ میں خدا تعالیٰ مجھے خبر دیتا رہا کہ میں تجھے بچاؤں گا۔ چنانچہ وہ اپنے وعدہ کے موافق مجھے محفوظ رکھتا رہا یہ ہیں خدا کے اقتداری نشان کہ ایک طرف تمام دنیا ہمارے ہلاک کرنے کے لئے جمع ہے اور ایک طرف وہ قادر خدا ہے کہ اُن کے ہر ایک حملہ سے مجھے بچاتا ہے۔ ڈویژنل حج امرتسر نے جو ایک انگریز تھا پوری تحقیق سے اس مقدمہ میں کام لیا اور جیسا کہ شرط انصاف ہے وہ فیصلہ کیا جو کامل تحقیقات اور عدالت کی رو سے چاہئے تھا۔ اور اپنے فیصلہ میں اپنے الفاظ میں لکھا کہ جو الفاظ اپیلانٹ مستغاث علیہ نے کرم دین رسپانڈنٹ مستغیث کے حق میں استعمال کئے تھے جو موجب ازالہ حیثیت عرفی سمجھے گئے ۔ یعنی کذاب اور لٹیم کا لفظ اگرا پیلانٹ ان الفاظ سے بڑھ کر کرم دین کے حق میں استعمال کرتا تو بھی کرم دین اُن الفاظ کا مستحق تھا ۔ منہ یہ تمام پیشگوئیاں وقتاً فوقتاً شائع ہوتی رہی ہیں ہمارے مخالفوں کو خدا کے سامنے یہ جواب دینا ہوگا کہ وہ کیوں ان سب نشانوں کو بھول گئے ۔ منہ