حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 104 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 104

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۰۴ حقيقة ويخرون على الاذقان۔ ربنا اغفر لنا ذنوبنا انا كنا اور تیرے مخالف ٹھوڑیوں پر گریں گے یہ کہتے ہوئے کہ اے خدا ہمیں بخش اور ہمارے گناہ معاف کر کہ ہم خاطئين يا نبي الله كنت لا اعرفك۔ لا تشـريـب عليكم اليوم خطا پر تھے۔ اور زمین کہے گی کہ اے خدا کے نبی میں تجھے شناخت نہیں کرتی تھی اسے خطا کا رو! آج تم پر کوئی ملامت نہیں (101) يغفر الله لكم و هو ارحم الراحـمـيـن۔ تـلـطـف بـالنـاس وتـرحـم خدا تمہارے گناہ بخش دے گا وہ ارحم الراحمین ہے۔ لوگوں کے ساتھ لطف اور مدارات سے عليهم انت فيهم بمنزلة مـوسـی یـــاتــی علیک زمن پیش آ۔ تو مجھ سے بمنزلہ موسیٰ کے ہے۔ تیرے موسیٰ کے زمانہ بقيه حاشي یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ پس پہلے نبیوں کی اُمت میں جو اس درجہ کی صلاح و تقویٰ پیدا نہ ہوئی اس کی یہی وجہ تھی کہ اس درجہ کی توجہ اور دل سوزی اُمت کے لئے اُن نبیوں میں نہیں تھی ۔ افسوس کہ حال کے نادان د مسلمانوں نے اپنے اس نبی مکرم کا کچھ قدر نہیں کیا اور ہر ایک بات میں ٹھوکر کھائی۔ وہ ختم نبوت کے ایسے معنے کرتے ہیں جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کتی ہے نہ تعریف ۔ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نفس پاک میں افاضہ اور تکمیل نفوس کے لئے کوئی قوت نہ تھی اور وہ صرف خشک شریعت کو سکھلانے آئے تھے حالانکہ اللہ تعالی اس امت کو یہ دعا سکھلاتا ہے: اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ پس اگر یہ امت پہلے نبیوں کی وارث نہیں اور اس انعام میں سے ان کو کچھ حصہ نہیں تو یہ دعا کیوں سکھلائی گئی۔ افسوس کہ تعصب اور نادانی کے جوش سے کوئی اس آیت میں غور نہیں کرتا۔ بڑا شوق رکھتے ہیں کہ حضرت عیسی آسمان سے نازل ہومگر خدا کا کلام قرآن شریف گواہی دیتا ہے کہ وہ مر گیا اور اُس کی قبر سری نگر کشمیر میں ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَأَوَيْنَهُمَا إِلَى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَ مَعِيْنِ ے یعنی ہم نے عیسی اور اس کی ماں کو یہودیوں کے ہاتھ سے بچا کر ایک ایسے پہاڑ میں پہنچادیا جو آرام اور خوشحالی کی جگہ تھی اور مصلا پانی کے چشمے اُس میں جاری تھے سو وہی کشمیر ہے۔ اسی وجہ سے حضرت مریم کی قبر زمین شام میں کسی کو معلوم نہیں اور کہتے ہیں کہ وہ بھی حضرت عیسی کی طرح مفقود ہے۔ یہ کس قدر علم ہے جو نادان مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت مکالمہ مخاطبہ الہیہ سے بے نصیب ہے اور خود حدیثیں پڑھتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں اسرائیلی نبیوں کے مشابہ لوگ پیدا ہوں گے اور ایک ایسا ہوگا کہ ایک پہلو سے نبی ہوگا اور ایک پہلو سے اُمتی ۔ وہی مسیح موعود کہلائے گا۔ منہ الفاتحة : ٧،٦ المومنون : ۵۱