حقیقةُ الوحی — Page 103
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۰۳ حقيقة تتبعها الرادفة ۔ پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی اس کے بعد ایک اور زلزلہ آئے گا۔ بہار جب دوبارہ آئے گی تو پھر ایک اور زلزلہ آئے گا۔ پھر بہار آئی تو آئے صلح کے آنے کے دن۔ رب اخر وقت (۱۰) پھر بہار جب بار سوم آئیگی تو اسوقت اطمینان کے دن آجا ئینگے اور اسوقت تک خدا کئی نشان ظاہر کر دیگا اے خدا بزرگ زلزلہ کے ظہور هذا الخره الله الى وقت مسمى ترى نصرا عجيبا بقیه حاشیه میں کسی قدر تاخیر کر دے۔ خدا نمونہ قیامت کے زلزلہ کے ظہور میں ایک وقت مقرر تک تاخیر کر دیا۔ تب تو ایک عجیب مدد دیکھے گا جو مکہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کرتے رہے اور مکہ کی زمین بول اُٹھی کہ میں اس مبارک قدم کے نیچے ہوں ۱۰۰ جس کے دل نے اس قدر تو حید کا شور ڈالا جو آسمان اُس کی آہ وزاری سے بھر گیا۔ خدا بے نیاز ہے اسکو کسی ہدایت یا ضلالت کی پرواہ نہیں پس یہ نور ہدایت جو خارق عادت طور پر عرب کے جزیرہ میں ظہور میں آیا اور پھر دنیا میں پھیل گیا یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دلی سوزش کی تاثیر تھی۔ ہر ایک قوم توحید سے دور اور مجبور ہوگئی مگر اسلام میں چشمہ تو حید جاری رہا۔ یہ تمام برکتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کا نتیجہ تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ بے یعنی کیا تواس غم میں اپنے تئیں ہلاک کر دیگا جو پہلے یہ وحی الہی ہوئی تھی کہ وہ زلزلہ جو نمونہ قیامت ہوگا بہت جلد آنیوالا ہے اور اس کے لئے یہ نشان دیا گیا تھا کہ پیر منظور محمد لد بانوی کی بیوی محمدی بیگم کوٹڑ کا پیدا ہوگا اور وہ لڑکا اس زلزلہ کے ظہور کیلئے ایک نشان ہوگا اسلئے اس کا نام بشیر الدولہ ہوگا کیونکہ وہ ہماری ترقی سلسلہ کیلئے بشارت دیگا۔ اسی طرح اس کا نام عالم کباب ہوگا کیونکہ اگر لوگ تو بہ نہیں کرینگے تو بڑی بڑی آفتیں دنیا میں آئیں گی۔ ایسا ہی اس کا نام کلمتہ اللہ اور کلمتہ العزیز ہوگا کیونکہ وہ خدا کا کلمہ ہو گا جو وقت پر ظاہر ہوگا اور اس کیلئے اور نام بھی ہونگے مگر بعد ا سکے میں نے دعا کی کہ اس زلزلہ نمونہ قیامت میں کچھ تاخیر ڈال دی جائے۔ اس دعا کا اللہ تعالیٰ نے اس وحی میں خود ذکر فرمایا اور جواب بھی دیا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ ربّ اخروقت هذا اخره الله الى وقت مسمی یعنی خدا نے دعا قبول کر کے اس زلزلہ کو کسی اور وقت پر ڈال دیا ہے اور یہ وحی الہی قریباً چار ماہ سے اخبار بدر اور احکام میں چھپ کر شائع ہو چکی ہے اور چونکہ زلزلہ نمونہ قیامت آنے میں تاخیر ہو گئی اس لئے ضرور تھا کہ لڑکا پیدا ہونے میں بھی تاخیر ہوتی ۔ لہذا ۱۰۱ پیر منظور محمد کے گھر میں ۷ار جولائی ۱۹۰۶ء میں بروز سہ شنبہ لڑکی پیدا ہوئی اور یہ دعا کی قبولیت کا ایک نشان ہے اور نیز وحی الہی کی سچائی کا ایک نشان ہے جو لڑ کی پیدا ہونے سے قریباً چار ماہ پہلے شائع ہو چکی تھی مگر یہ ضرور ہوگا کہ کم درجہ کے زلزلے آتے رہیں گے اور ضرور ہے کہ زمین نمونہ قیامت زلزلہ سے رکی رہے جب تک وہ موعود لڑکا پیدا ہو ۔ یادر ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کی بڑی رحمت کی نشانی ہے کہ لڑکی پیدا کر کے آئندہ بلا یعنی زلزلہ نمونہ قیامت کی نسبت تسلی دیدی کہ اس میں بموجب وعدہ اخره الله الى وقت مسمی ابھی تاخیر ہے اور اگر ابھی لڑکا پیدا ہو جاتا تو ہر ایک زلزلہ اور ہر ایک آفت کے وقت سخت غم اور اندیشہ دامنگیر ہوتا کہ شائد وہ وقت آگیا اور تاخیر کا کچھ اعتبار نہ ہوتا اور اب تو تا خیر ایک شرط کے ساتھ مشروط ہو کر معین ہوگئی۔ منہ الشعراء : ۴