حقیقةُ الوحی — Page 101
روحانی خزائن جلد ۲۲ 1+1 حقيقة تیرے آگے ہے۔ پر تو نے وقت کو نہ پہچانا نہ دیکھا نہ جانا۔ برہمن اوتار سے مقابلہ کرنا اچھا نہیں۔ رب فرق بين صادق و کاذب - انت ترى كل مصلح (۹۸) اے خدا سچے اور جھوٹے میں فرق کر کے دکھلا۔ تو ہر ایک مصلح اور صادق وصـــادق۔ رَبّ كلّ شيءٍ خادمک ربّ فـاحـفـظـنـي وانــصــرنـي کو جانتا ہے۔اے میرے خدا ہر ایک چیز تیری خادم ہے۔اے میرے خدا نشریر کی شرارت سے مجھے نگہ رکھ اور میری وارحمـنـی - خدا قاتل تو باد و مرا از شر تو محفوظ داراد مدد کر اور مجھ پر رحم کر ۔ اے دشمن تو جو تباہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے خدا تجھے تباہ کرے اور تیرے شر سے مجھے نگہ رکھے یعنی زلزلہ آیا اُٹھو نمازیں پڑھیں اور قیامت کا نمونہ دیکھیں۔ بقيه حاشيـــــــــه وہ بھونچال جو وعدہ دیا گیا ہے جلد آنے والا ہے اُس وقت خدا کے بندے قیامت کا نمونہ دیکھ کر نمازیں پڑھیں گے۔ رشد اور صلاح اور تقویٰ سے بہت ہی کم حصہ ملا تھا اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی کی اُمت اولیاء اللہ کے وجود سے عموماً محروم رہی تھی اور کوئی شاذ و نادر اُن میں ہوا تو وہ حکم معدوم کا رکھتا ہے بلکہ اکثر ان میں سرکش، فاسق ، فاجر، دنیا پرست ہوتے رہے ہیں اور اسی وجہ سے ان کی نسبت حضرت موسیٰ (۹۸ یا حضرت عیسی کی قوت تا ثیر کا توریت اور انجیل میں اشارہ تک نہیں ہے تو ریت میں جابجا حضرت موسیٰ کے صحابہ کا نام ایک سرکش اور سخت دل اور مرتکب معاصی اور مفسد قوم لکھا ہے جن کی نا فرمانیوں کی نسبت قرآن شریف میں بھی یہ بیان ہے کہ ایک لڑائی کے موقع کے وقت میں انہوں نے حضرت موسیٰ کو یہ جواب دیا تھا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا قُعِدُونَ ۔ یعنی تو اور تیرارب دونوں جا کر دشمنوں سے لڑائی کرو ہم تو اسی جگہ بیٹھیں گے یہ حال تھا اُن کی فرمانبرداری کا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے دلوں میں وہ جوش عشق الہی پیدا ہوا اور توجہ قدی آنحضرت یہ پیشگوئی ایک ایسے شخص کے بارہ میں ہے جو مرید بن کر پھر مرتد ہو گیا اور بہت شوخیاں دکھلا ئیں اور گالیاں دیں اور زبان درازی میں آگے سے آگے بڑھا۔ پس خدا فرماتا ہے کہ کیوں آگے بڑھتا ہے کیا تو فرشتوں کی تلواریں نہیں دیکھتا۔ منہ حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” دارد “ ہونا چاہیے۔(ناشر) ا المائدة : ۲۵