گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟ — Page 654
روحانی خزائن جلد ۱۸ گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے سے بھا گو گے جیسا کہ ایک انسان شیر سے بھاگتا ہے پس اس رسالہ کا ضروری فرض یہی ہوگا کہ اس کی تعلیم اور اس کے نشانوں کو دنیا میں پھیلا دے تا جولوگ صلیب اور مسیح کے خون میں نجات ڈھونڈتے ہیں وہ حقیقی نجات کے چشمہ کو دیکھ لیں۔ حقیقی نجات ان پانیوں میں نہیں ہے جن میں ایک حصہ پانی اور میں حصہ کیچڑ اور غلاظت ۔ دلوں کو دھونے والا پانی آسمان سے اپنے وقت پر اترتا ہے۔ جو نہر اس سے لبالب چلتی ہے وہ کیچڑ اور میلے پانی سے بہت دور ہوتی ہے اور لوگ صاف اور عمدہ پانی اس کا استعمال کرتے ہیں لیکن وہ نہر جو خشک ہے اور کچھ تھوڑا پانی اس میں کھڑا ہے اور وہ بھی متعفن اس میں وہ لطافت اور صفائی نہیں رہ سکتی اور بہت سا کیچڑ اس سے مل جاتا ہے۔ اور کئی حیوان اس میں بول و براز کرتے ہیں اسی طرح جس دل کو خدا کا علم دیا گیا ہے اور یقین بخشا گیا ہے وہ اس لبالب نہر کی مانند ہے جو تمام کھیتوں کو سیراب کرتی جاتی ہے اور اس کا صاف اور ٹھنڈا پانی دلوں کوتسکین بخشتا اور کلیجوں کی جلن کو دور کرتا ہے اور وہ نہ صرف آپ پاک ہے بلکہ پاک بھی کرتا ہے کیونکہ وہ حکمت اور دانش بخشتا ہے کہ جو دلوں کا زنگ دور کرتی ہے گناہ سے نفرت دلاتی ہے مگر وہ جو تھوڑے پانی کی مانند ہے جس میں کیچڑ ملا ہوا ہے وہ مخلوق کو کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتا اور نہ اپنے تئیں صاف کر سکتا ہے۔ سواب وقت ہے اٹھو اور یقین کا پانی تلاش کرو کہ وہ تمہیں ملے گا اور کثرت یقین سے ایک دریا کی طرح بہہ نکلو۔ ہر ایک شک و شبہ کی نجاست سے پاک ہو کر گناہ سے دور ہو جاؤ۔ یہی پانی ہے جو گناہ کے نقوش کو دھوئے گا اور تمہارے لوح سینہ کو صاف کر کے ربانی نقوش کے لئے مستعد کر دے گا۔ تم نفسانی حروف کو اس لوح خاطر سے کسی طرح مٹا نہیں سکتے جب تک کہ یقین کے صاف پانی سے اس کو دھونہ ڈالو۔ قصد کرو تا تمہیں تو فیق دی جائے اور ڈھونڈ و تا تمہارے لئے میسر کیا جائے اور دلوں کو نرم کرو تا ان باتوں کو سمجھ سکو۔