گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 640 of 822

گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟ — Page 640

۶۳۶ گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے روحانی خزائن جلد ۱۸ دنیا کو ایسے علماء اور ان کے معتقدوں نے اسلامی فیوض سے محروم کر دیا ہے ۔ کیا ایسا مذہب خدا کی طرف سے ہو سکتا ہے جو دلوں کے اندر اپنی تعلیم کو بغیر اس کے نہیں اتار سکتا جب تک تلوار کی چمک نہ دکھلاوے۔ مذہب سچا تو وہ ہے جو اپنی ذاتی خاصیت اور طاقت سے دلائل قاطعہ سے خود تلوار کا کام دے نہ یہ کہ لوہے کی تلوار کا محتاج ہو۔ یہی خرابیاں ہیں جو ہر وقت تقاضا کر رہی ہیں جو کوئی مصلح پیدا ہو۔ جب ہم اسلام کی اندرونی حالت پر غور کریں تو ایسی خوفناک حالت ہے جو گویا سورج کو گرہن لگا ہوا ہے اور اس کا بہت سا حصہ تاریک ہو چکا ہے اور کچھ تھوڑا سا باقی ہے۔ مسلمانوں کی عملی حالتیں قابل رحم ہیں۔ بعض حدیثیں ایسی بنائی گئی ہیں جو ان کی اخلاقی حالت پر بہت ہی برا اثر ڈالتی ہیں اور خدا کے مقرر کردہ قوانین کی دشمن ہیں۔ مثلاً خدا کے قانون نے انسانوں کی نوع کے لئے تین قسم کے حقوق قائم کئے تھے۔ یہ کہ بے گناہ کسی کو قتل نہ کریں ۔ اور یہ کہ بے خطا کسی کی عزت میں خلل انداز نہ ہوں اور یہ کہ بغیر کسی حق کے کسی کا مال نہ لیں مگر میں دیکھتا ہوں کہ بعض مسلمانوں نے ان تینوں حکموں کو توڑ دیا ہے۔ وہ ایک بے گناہ کا خون کر دیتے ہیں اور نہیں ڈرتے ۔ ان کے احمق مولویوں نے ایسے فتوے بھی دے رکھے ہیں کہ غیر قوموں کی عورتوں کو جن کو وہ کافر اور بے دین کہتے ہیں کسی حیلہ سے بہکا لے جانا جائز ہے یا پکڑ لینا ۔ اور پھر اپنی عورت بنانا۔ اور ایسا ہی کافروں کا مال خیانت اور چوری کی راہ سے لینا روا ہے۔ کوئی گناہ نہیں۔ اب سوچنا چاہیئے کہ جس مذہب میں اس قدر خرابی پیدا ہو جائے کہ اس میں ایسے ایسے بھی مولوی فتوی دینے والے موجود ہیں وہ مذہب کس قدر خطر ناک حالت میں ہے۔ نفس پرست لوگوں نے یہ سب فتوے اپنی طرف سے بنا لئے ہیں اور خدا اور رسول پر ۲۰ افترا کیا ہے یہ تمام گناہ جو نادان وحشی کر رہے ہیں سب ان کی گردن پر ہے ۔ وہ بھیڑئیے ہیں مگر بھیڑوں کے لباس میں ظاہر ہوتے ہیں اور دھوکا دیتے ہیں ۔ وہ زہر ہیں مگر اپنے تئیں