گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 639 of 822

گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟ — Page 639

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۳۵ گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے سے ہراساں اور لرزاں نظر آتا ہے۔ میں ایک ایسا نظارہ دیکھ چکا ہوں اور وہ یہ کہ شاید ۲۰ نومبر ۱۹۰۱ء کا یہ واقعہ ہے جو ہمارے اس جگہ قادیان میں ایک انگریز آیا اور اس وقت ہماری جماعت کے لوگ بہت جمع تھے اور کوئی مذہبی گفتگو شروع تھی کہ وہ آکر ایک کنارہ پر کھڑا ہو گیا۔ تب اس کو بہت خلق سے بلایا گیا اور اپنے پاس بٹھایا گیا اور معلوم ہوا کہ وہ ایک سیاح انگریز ہے جو عرب کا ملک بھی دیکھ آیا ہے اور ہماری جماعت کی تصویریں لینا چاہتا ہے۔ چنانچہ اس کے کام میں اس کو مدد دی گئی اور اس کو خاطر داری اور دلجوئی کے طور پر کہا گیا کہ وہ چند روز ہمارے پاس رہے مگر معلوم ہوا کہ وہ ڈرتا تھا اور اس نے بیان کیا کہ میں نے بہت مسلمان دیکھے ہیں کہ عیسائیوں کو بے رحمی سے قتل کر دیتے ہیں۔ چنانچہ اس نے ایسے چند قصے بغداد کے بھی سنائے جس میں ایسی وارداتیں بڑی بے رحمی سے ہوئی تھیں ۔ تب اس کو بڑی نرمی اور خلق سے سمجھایا گیا کہ یہ جماعت جو احمدی فرقہ کہلاتا ہے ایسے عقائد سے سخت بیزار اور ایسے لوگوں کو سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اور انسانی حقوق کی نسبت جو کچھ اس فرقہ نے کام کرنا ہے وہ یہی ہے کہ اسلام میں سے ایسے خیالات کا استیصال کر دیوے۔ تب اس کا دل مطمئن ہوا اور وہ خوشی (19) سے ہمارے پاس ایک رات رہا۔ اس قصہ کے بیان سے غرض یہ ہے کہ مسلمانوں کے ایسے عقیدے جو سراسر خلاف واقعہ ہیں غیر قوموں کو بہت مضر ہوئے ہیں اور ان کے دلوں میں بدظنی اور نفرت پیدا ہوگئی ہے ۔ اور مسلمانوں کی سچی ہمدردی کی نسبت ان کے نیک ظن بہت ہی کم ہو گئے ہیں اور اگر کچھ ہیں بھی تو ایسے لوگوں کی نسبت جو مولویانہ زندگی نہیں رکھتے اور اسلامی اصولوں کی پابندی کی چنداں پروانہیں کرتے پس جبکہ مسلمانوں کی نسبت اس قدر بدظنی بڑھ گئی ہے جس کے بڑھانے کے وہ خود ہی موجب ہیں تو کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گناہ بھی ہوگا کہ ایک