گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 638 of 822

گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟ — Page 638

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۳۴ گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے مجھے معلوم ہوتا ہے کہ حال کے بعض مولوی اس انحطاط پر ابھی راضی نہیں ہیں جو اسلام کو پیش آرہا ہے اور وہ ایسے عقیدوں پر زور دے کر کسی اور اسفل مقام تک اسلام کو لے جانا چاہتے ہیں۔ لیکن یقیناً سمجھو کہ خدا کو منظور نہیں ہے کہ اسلام ایسی ملامتوں اور تہمتوں کا نشانہ بنے ۔ نادان مخالفوں کیلئے یہ ابتلا بس ہے کہ وہ اب تک اپنے اس خیال پر جمے ہوئے ہیں کہ گویا ابتدائی زمانہ میں اور بعد میں بھی اسلام اپنی جماعت بڑھانے کے لئے تلوار سے کام لیتا رہا ہے ۔ اب یہ زمانہ اور یہ وقت وہ ہے کہ اس غلطی کو دلوں کے اندر سے نکال دیا جائے نہ یہ کہ اور بھی پختہ کیا جائے ۔ اگر اسلام کے مولوی اتفاق کر کے اس بات پر زور دیں کہ وہ وحشی (۱۸) مسلمانوں کے دلوں سے اس غلطی کو نکال دیں تو وہ بلا شبہ قوم پر ایک بڑا احسان کریں گے اور نہ صرف یہی بلکہ ان کے ذریعہ سے اسلام کی خوبیوں کی ایک بھاری جڑ لوگوں پر ظاہر ہو جائے گی اور وہ سب کراہتیں جو اپنی غلطیوں سے مذہبی مخالف اسلام کی نسبت رکھتے ہیں وہ جاتی رہیں گی تب ان کی نظریں صاف ہو کر جلد تر اس چشمہ نور سے فیض اٹھا ئیں گی ۔ یہ تو ظاہر ہے کہ ایک خونی انسان کے نزدیک کوئی نہیں آسکتا ہر ایک شخص اس سے ڈرتا ہے خاص کر بچے اور عورتیں اس کو دیکھ کر کانپتی ہیں اور وہ ایک مجنون کی طرح دکھائی دیتا ہے ۔ اور ایک غیر مذاہب کا مخالف اس کے پاس رات رہنے سے بھی اندیشہ کرتا ہے کہ مبادا غازی بننے کے لئے رات اٹھ کر اس کو قتل نہ کر دے کیونکہ انہیں ثوابوں کے خیال سے بعض سرحدی اب تک ناحق کے خون کر کے یہ خیال کر لیتے ہیں کہ آج ہم نے اپنے ایک ہی عمل سے بہشت حاصل کر لیا ہے اور اس کی تمام نعمتوں کے مستحق ہو گئے ۔ سو کس قدر جائے شرم ہے کہ غیر قوموں کو مسلمانوں کی ہمسائیگی سے امان اٹھ گیا ہے اور وہ اپنے دلوں میں بھی تسلی نہیں پکڑ سکتے کہ اگر موقع پاویں تو یہ قوم ہم سے کچھ نیکی کر سکے گی ۔ ایسے نمونے بار ہا پیش آتے ہیں کہ ایک غیر قوم کے انسان کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ در حقیقت مسلمانوں کے اس چھپے ہوئے عقیدہ