گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 637 of 822

گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟ — Page 637

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۳۳ گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے کہ وہ سب قتل کے لائق ہیں ۔ مگر پھر بھی اگر ایمان لے آویں تو سزائے قتل سے معافی دی جاوے گی ۔ غالباً کم فہم مخالفوں نے اسی حکم سے دھوکا کھایا ہے انہیں معلوم نہیں کہ یہ صورت جبر کی نہیں بلکہ واجب القتل کے لئے ایک رعایت ہے اس کو جب سمجھ لینا اس سے بڑھ کر کوئی (۱۷ حماقت نہیں ۔ وہ لوگ تو قاتل ہونے کی وجہ سے مستوجب قتل تھے نہ کافر ہونے کی وجہ سے اور خدائے رحیم یہ بھی خوب جانتا تھا کہ انہوں نے اسلام کی سچائی کو خوب سمجھ لیا ہے لہذ اس کی رحمت نے تقاضا فرمایا کہ ایسے واجب القتل مجرموں کو پھر بھی گناہ معاف کرانے کا ایک موقع دیا جاوے سو اس سے بھی یہی ثابت ہوا کہ اسلام کا ہرگز منشاء نہ تھا کہ کسی کو قتل کرے بلکہ جولوگ اپنی خونریزیوں کی وجہ سے قتل کے لائق تھے ان کے لئے بھی معافی کی ایک راہ نکال دی۔ اس زمانہ میں اسلام کو یہ مشکلات جابجا پیش آئیں کہ ہر ایک قوم میں اس قدر تعصب بڑھا ہوا تھا کہ کوئی بیچارہ کسی قوم میں سے اگر مسلمان ہوجاتا تو یا تو وہ قتل کیا جاتا تھا اور یا اس کی جان سخت خطرہ میں پڑ جاتی تھی اور زندگی اس پر وبال ہو جاتی تھی ۔ تو اس صورت میں اسلام کو امن قائم کرنے کیلئے بھی لڑائیاں کرنی پڑیں اور بجز ان دو صورتوں کے اس ابتلا کے زمانہ میں کبھی اسلام نے جنگ کا نام نہ لیا اور اسلام کا ہرگز مقصود نہ تھا کہ مذہب کیلئے وہ جنگ کرے لیکن اس کو جنگ کرنے پر خواہ نخواہ مجبور کیا گیا۔ پس جو کچھ اس سے ظہور میں آیا وہ حفاظت خود اختیاری اور ضرورت مدافعت کیلئے ظہور میں آیا پھر بعد اس کے ناسمجھ مولویوں نے اس مسئلہ پر اور رنگ چڑھا دیا اور ایک قابل شرم درندگی کو اپنا فخر سمجھا لیکن یہ اسلام کا قصور نہیں ہے یہ خود ان لوگوں کی عقلوں کا قصور ہے جو انسانی خون کو چار پائیوں کے خون سے بھی کم قدر سمجھتے ہیں اور ابھی تک خونوں سے سیر نہیں ہوئے بلکہ اسی غرض کیلئے ایک مہدی خونی کے منتظر ہیں ۔ گویا تمام قوموں کو یہ ثبوت دینا چاہتے ہیں کہ اسلام اپنی اشاعت کے لئے ہمیشہ جبر اور زبر دستی کا محتاج رہا ہے۔ اور اس میں کوئی خفیف اور سبک سچائی بھی نہیں۔