گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 636 of 822

گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟ — Page 636

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۳۲ گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے عادت کو چھوڑنا نہ چاہا۔ پس اس صورت میں اسلام کے لئے بجز اس کا رروائی کے اور کیا چارہ تھا کہ وہ ان حملوں کی مدافعت کرتا اور بیجا حملہ کرنے والوں کو سزا دیتا۔ سو اسلام کی لڑائیاں دین پھیلانے کیلئے نہیں تھیں بلکہ مسلمانوں کی جان بچانے کے لئے تھیں۔ کیا کوئی عقل سلیم قبول کر سکتی ہے کہ اسلام وحشی بت پرستوں کے آگے بھی اپنی توحید کی معقولیت ثابت کرنے سے عاجز تھا اور کیا کوئی عظمند باور کر سکتا ہے کہ وہ مشرک لوگ جو پتھروں اور جمادات کی پوجا کرتے اور طرح طرح کی ناپاکیوں میں مبتلا تھے اسلام ان کے آگے بھی حجت کے رو سے مغلوب تھا اور تلوار سے کام چلانا چاہتا تھا۔ معاذ اللہ ہرگز یہ خیالات صحیح نہیں ہیں اور جنہوں نے ایسے اعتراض اسلام پر کئے ہیں انہوں نے سراسر ظلم کی راہ سے حقیقت کو چھپایا ہے۔ ہاں یہ سچ ہے اس ظلم سے جیسا کہ مولویوں نے حصہ لیا ۔ پادریوں نے بھی ان سے کم حصہ نہیں لیا اور اسلام پر اس قسم کے اعتراض کر کے نادان مولویوں کی باتوں کو عوام کے ذہن میں خوب جما دیا اور ان کو یہ دھوکا لگا کہ جس حالت میں ہمارے مولوی جہاد کا فتویٰ دیتے ہیں اور پادری جو بڑے صاحب علم ہیں وہ بھی یہی اعتراض پیش کرتے ہیں سو اس سے ثابت ہوتا ہے که در حقیقت ہمارے مذہب میں جہاد روا ہے۔ اب یہ کس قدر ظلم ہوا کہ دو مختلف شہادتوں سے اسلام پر یہ اعتراض جمایا گیا۔ اگر پادری ایسا طریق اختیار نہ کرتے اور ایمانداری سے سچ کی پیروی کر کے یہ کہتے کہ یہ مولوی نادانی اور جہالت کا فتویٰ دیتے ہیں ورنہ اسلام کی ابتدا میں جس صورت نے یہ ضرورت پیدا کی تھی اب وہ صورت اس زمانہ میں موجود نہیں ہے تو امید تھی کہ جہاد کا خیال ہی دنیا سے اٹھ جاتا مگر جوش زیادہ اور سمجھ کم تھی اس لئے حقیقت کو نہیں سمجھا۔ ہاں یہ سچ ہے کہ عرب کے لوگ جب بہت سی مفسدانہ حرکات کے بعد اپنی ناحق کی خون ریزیوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی نظر میں واجب القتل ٹھہر گئے تھے تب یہ حکم بھی نکلا تھا