گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟ — Page 635
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۳۱ گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے جھوٹا ہونے کے لئے اور کسی دلیل کی ضرورت نہیں اس کے کاٹنے کے لئے اسی کی تلوار کافی ہے۔ مگر یہ اعتراض کہ اگر جہاد اب جائز نہیں تو اسلام میں اول زمانہ میں کیوں تلوار سے کام لیا گیا۔ یہ معترضین کی اپنی غلطی ہے جو باعث نا واقفیت پیدا ہوئی ہے۔ انہیں معلوم نہیں کہ اسلام دین کے پھیلانے کے لئے ہرگز جبر کی اجازت نہیں دیتا۔ دیکھو کیسی ممانعت قرآن میں موجود ہے کہ فرماتا ہے کہ لَا إِكْرَاة في الدين لا یعنی دین میں جبر نہیں کرنا چاہئے ۔ پھر کیوں تلوار اٹھائی گئی۔ اس کی اصل حقیقت یہ ہے کہ عرب کے وحشی جن میں کوئی تمیز اور تہذیب باقی نہیں رہی تھی وہ اسلام اور مسلمانوں کے سخت دشمن ہو گئے تھے اور جب ان پر تو حید اور اسلامی سچائیوں کی کھلے کھلے دلائل سے حجت پوری کی گئی اور ان کے ذہن نشین کیا گیا کہ انسان ہو کر پتھروں کی پوجا کرنا ایک صریح غلطی ہے کہ انسانیت کے بھی برخلاف ہے تو وہ ان معقول باتوں کا کچھ بھی جواب نہ دے سکے اور ان کے لا جواب ہو جانے سے سمجھدار لوگوں کو اسلام کی طرف حرکت پیدا ہوگئی اور بھائی سے بھائی اور باپ سے بیٹا جدا ہو گیا تب انہیں اپنے باطل مذہب کے بچانے کے لئے کوئی تدبیر بجز اس کے خیال میں نہ آئی کہ سخت سخت سزاؤں کے ساتھ لوگوں کو مسلمان ہونے سے روک دیں ۔ چنانچہ مکہ معظمہ میں ابو جہل وغیرہ مکہ کے رئیسوں کی طرف سے یہی عمل درآمد شروع ہو گیا۔ اسلام کے ابتدائی زمانہ کی تاریخ پڑھنے والے خوب جانتے ہیں کہ ایسی بے رحمی کی وارداتیں مخالفوں کی طرف سے مکہ میں کس قدر ظہور میں آئیں اور کس قدر بے گناہ ظلم سے مارے گئے مگر لوگ پھر بھی مسلمان ہونے سے باز نہیں آتے تھے کیونکہ ہر ایک موٹی عقل کا انسان بھی جانتا تھا کہ بت پرستوں کے مقابل پر کس قدر اسلام معقولیت اور صفائی رکھتا ہے نا چار جب اس تدبیر سے بھی پوری (1) نا کا میابی نہ ہوئی تو یہ ٹھہری کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی قتل کیا جاوے لیکن خدا تعالیٰ آپ کو بچا کر مدینہ میں لے گیا مگر پھر بھی انہوں نے قتل کے لئے تعاقب کیا اور کسی صورت میں اپنی البقرة : ۲۵۷