گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 634 of 822

گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟ — Page 634

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۳۰ گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے آنکھیں کھولی جائیں گی ، اور وہ خود بخو دسوچنے لگیں کہ یہ کیا بات ہے اور یہ کس قسم کا کا ذب ہے جو زیر نہیں ہوتا اور کیوں خدا کی تائید میں اس کے شامل حال ہیں اور ہمارے شامل حال نہیں تب خدا کا ایک فرشتہ ان کے دلوں پر اترے گا اور ان کو سمجھائے گا کہ کیا تمہاری حدیثوں اور روایتوں کی پیشگوئیاں ضروری الوقوع ہیں جو تمہاری روک کا باعث ہیں اور کیا ان میں سے بعض کی نسبت وضع اور غلطی ممکن اور محل نہیں اور کیا بعض پیشگوئیوں کا استعارات کے رنگ میں پورا ہونا جائز نہیں ۔ اور کیا یہودیوں کی بدنصیبی اور بے ایمانی کا بجز اس کے کوئی اور بھی باعث تھا کہ وہ منتظر رہے کہ تمام باتیں ظاہری صورت میں ہی پوری ہوں اور ان کے خیالات کے مطابق سب کچھ ہو مگر نہ ہوا۔ تو پھر جب کہ وہی خدا اب بھی ہے اور وہی اس کی عادت ، تو کیوں جائز نہیں کہ وہی ابتلا تمہیں بھی پیش آیا ہو ۔ غرض آخر کا ر انہی خیالات کی طرف طبعا انسانوں کے دلوں کا رجوع ہو جائے گا جیسا کہ قدیم سے ہوتا آیا ہے لیکن یہ بات صحیح نہیں کہ حقیقی دین اور راستبازی کے پھیلانے کے لئے ۔ یہ جسمانی لڑائیوں کا زمانہ ہے کیونکہ تلوار سچائی کے جو ہروں کو ظاہر نہیں کرسکتی بلکہ ان کو اور بھی چھپاتی اور مشتبہ کرتی ہے جولوگ ایسے خیالات کے خواہشمند ہیں وہ اسلام کے دوست نہیں ہیں بلکہ دشمن ہیں اور ان 10 کی فطرت نہایت پست اور سفلی رنگ میں اور ان کی ہمتیں گری ہوئی اور دل منقبض اور دماغ ابلہ اور طبیعتیں تاریک ہیں کیونکہ وہ مخالفوں کو ایک ایسے اعتراض کا موقعہ دیتے ہیں جو در حقیقت وارد ہوسکتا ہے۔ کیونکہ بقول ان کے اسلام اپنی ترقی کے واسطے جہاد کا محتاج ہے اور یہ اسلام کی ہجو ہے کیونکہ جس مذہب میں یہ قوت ہے کہ وہ اپنی سچائی کو عقلی دلائل سے یا کسی اور قسم کی قابل تمسک شہادتوں سے یا آسمانی نشانوں سے با آسانی ثابت کرسکتا ہے۔ ایسے مذہب کے لئے کچھ ضرورت نہیں کہ جبر سے اور تلوار کی دھمکی سے اپنی سچائی کا اقرار کر اوے لیکن اگر کسی مذہب میں یہ ذاتی خاصیت موجود نہیں اور اپنی کمزوری کا تلوار سے تدارک کرتا ہے تو ایسے مذہب کے