گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟ — Page 632
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۲۸ گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے عقیدے اور رسمی علم اور رسمی نماز میں اس روشنی کو بحال نہیں کر سکتیں جو گم ہو چکی ہے کیا اندھا اندھے کو راہ دکھا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں ! کیا ظلمت ، ظلمت کو دور کر سکتی ہے ؟ کسی طرح ممکن نہیں۔ اب تو ایک جدید منار کی ضرورت ہے جو زمین پر تیار ہو جو سفلی آبادیوں سے ۱۳ امتیاز کے ساتھ اونچا ہو تا آسمانی روشنی اس پر نازل ہو اور سماوی چراغ اس پر رکھا جاوے اور پھر تمام دنیا اس روشنی سے منور ہو جاوے کیونکہ اگر چراغ اونچے مقام پر نہ رکھا جائے تو کیونکر اس کی روشنی دور دور تک پھیل سکے ۔ اب آپ کو یہ سمجھنا باقی ہے کہ منار کیا چیز ہے پس یاد رہے کہ منار اس نفس مقدس اور مطہر اور بلند ہمت کا نام ہے جو انسان کامل کو ملتا ہے جو آسمانی نور پانے کا مستحق جیسا کہ منار کے معنے میں یہ مطلب داخل ہے اور منار کی بلندی سے مراد اس انسان کی بلند ہمتی ہے اور منار کی مضبوطی سے مراد اس انسان کی استقامت ہے جو طرح طرح کے امتحانوں کے وقت وہ دکھلاتا ہے اور اس کی سفیدی و بر بیت ہے جو انجام کار ظاہر ہو جاتی ہے ۔ اور جب یہ سب کچھ ہو لیتا ہے یعنی جب اس کی علو ہمت اور کمال استقامت اور کمال صبر اور استقلال اور دلائل کے ساتھ اس کی بریت ایک چمکتے ہوئے منار کی طرح کھل جاتی ہے تب اس کی جلالی آمد کا وقت آجاتا ہے اور پہلی آمد جوا بتلاؤں کے ساتھ ہے اس کا وقت ختم ہو جاتا ہے ۔ تب وہ روحانیت خدائی جلال سے رنگین ہو کر اس وجود پر اترتی ہے جو منار کی صورت پر کھڑا ہے تب باز نہ تعالیٰ خدائی تاثیر میں اس میں پیدا ہو جاتی ہیں۔ یہ سب کچھ آمد ثانی میں ہوتا ہے۔ اور مسیح موعود کی خاص طور کی آمد اسی حقیقت کی کامل تصویر ہے اور مسلمانوں میں جو یہ روایتیں ہیں کہ مسیح موعود منار کے پاس اترے گا۔ اترنے سے مراد ایک جلالی طور کی آمد ہے جو خدائی رنگ اپنے ساتھ رکھتی ہے۔ یہ نہیں کہ وہ پہلے اس سے زمین پر موجود نہ تھا مگر ضرور ہے کہ آسمان اسے لئے رہے۔ جب تک کہ وہ وقت نہ آوے جو خدا نے مقرر کر دیا ہے۔ خدا کی عادت میں یہ بھی داخل ہے کہ روحانی امور کو ذہن نشین کرانے کیلئے