گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 629 of 822

گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟ — Page 629

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۲۵ گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے ہے جس پر اس دنیا کا خاتمہ ہوگا۔ اور بعض نے اپنی جہالت اور نادانی سے اس لڑائی کو ایک جسمانی لڑائی سمجھ لیا ہے جو تلوار اور بندوق سے ہوتی ہیں ۔ مگر وہ لوگ غلطی پر ہیں اور اپنی سفلی عقل اور حماقت سے روحانی جنگ کو جسمانی جنگ کی طرف کھینچ کر لے گئے ہیں۔ غرض ان دنوں زمین کی تاریکی اور آسمان کے نور کا ایک انتہائی جنگ ہے ۔ آدم سے لے کر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام خدا کے مقدس نبی اس جنگ کی طرف اشارات کرتے آئے ہیں اور اس جنگ کے سپہ سالاروں کے دو مختلف نام رکھے گئے ہیں ایک سچائیوں کو چھپانے والا اور دوسرا سچائیوں کو ظاہر کرنے والا یا دوسرے لفظوں میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ آسمان سے نورانی فرشتوں کے ساتھ اترنے والا اور میکائیل کا مظہر اور ایک زمین سے تمام شیطانی تاریکیوں کو لے کر ظاہر ہونے والا اور ابلیس کا مظہر ہوگا ۔ اب جب کہ ہم دیکھتے ہیں که زمینی لشکر خوب تیار ہے اور وہ خوب مسلح ہو کر کھڑے ہیں اور اپنا کام کر رہے ہیں بلکہ بہت کچھ کر بھی چکے ہیں تو طبعا یہ نیک خواہش پیدا ہوتی ہے اور فراست صحیحہ گواہی دیتی ہے کہ آسمانی گورنمنٹ بھی ان تیاریوں سے غافل نہیں ہے ۔ اس گورنمنٹ کی کچھ ایسی عادت 11 ہے کہ وہ ظاہری شور وغوغا کو پسند نہیں کرتی اور وہ بہت کچھ کارروائیاں اندر ہی اندر کر لیتی ہے اور لوگوں کو خبر بھی نہیں ہوتی تب آسمان پر ایک نشان ظاہر ہوتا ہے اور زمین پر ایک منار روشن اور نہایت سپید اور وہ آسمانی روشنی منار پر گرتی ہے اور پھر وہ منار تمام دنیا کو روشن کرتا ہے۔ یہ مختصر فقرہ تشریح کا محتاج ہے اور تشریح یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا روحانی سلسلہ اگر چہ جسمانی سلسلے کے بالکل مطابق ہے لیکن بعض امور میں اس میں وہ خواص عجیبہ پائے جاتے ہیں کہ جو جسمانی سلسلہ میں کھلے کھلے طور سے نظر آ نہیں سکتے چنانچہ منجملہ ان کے ایک یہ بھی خاصہ ہے کہ جب سفلی کشش اپنا کام کرنا شروع کرتی ہے تو گو وہ کشش آسمانی کشش سے بالکل مخالف ہے تا ہم آسمانی کشش اس کشش کے طبعی تقاضا سے پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے