گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟ — Page 628
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۲۴ گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے نا امیدی ہے جب تک کہ ایک ایسی مخالف اور زبردست کشش آسمان سے پیدا نہ ہو جو مخالف پہلو کے یقین کو بڑھا دے یعنی جیسا کہ ایک یقینی نظر سے نفسانی بدعملیوں میں فوائد اور لذات محسوس ہورہے ہیں ان سے بڑھ کر رحمانی حکموں میں فوائد دکھائی دیں اور یقین کی نظر سے بدی کا ارتکاب مرنے کے برابر مشہور ہو جو دل کو پکڑلے اور یہ یقین کی روشنی صرف آسمان سے اس آفتاب کے ذریعہ سے آتی ہے جو امام الوقت ہوتا ہے۔ اس لئے اس امام کا شناخت نہ کرنا جاہلیت کی موت مرنا ہے۔ جو شخص کہتا ہے کہ میں اس آفتاب سے روشنی حاصل کرنا نہیں چاہتا وہ خدا کے مستمرہ قانون کو توڑنا چاہتا ہے۔ کیا ممکن ہے کہ آفتاب کے بغیر آنکھیں دیکھ سکیں ؟ گو کہ آنکھوں میں بھی ایک نور ہے مگر آفتاب کا محتاج ۔ آفتاب حقیقی نور ہے جو آسمان سے آتا اور زمین کو روشن کرتا ہے اور آنکھیں بغیر اس کے اندھی ہیں۔ اور جس شخص کو اس آسمانی نور کے ذریعہ سے یقین پیدا ہو گا اس کو نیکی کی طرف ایک کشش پیدا ہوگی اور اس آسمانی کشش اور زمینی کشش میں لڑائی ہونا ایک طبعی امر ہے کیونکہ اس صورت میں ایک کشش نیکی کی طرف کھینچے گی اور ایک بدی کی طرف ۔ اور ایک مشرق کی طرف دھکا دے گی اور ایک مغرب کی طرف۔ اور دونوں کا باہم ٹکرانا اس وقت سخت خطر ناک ہوگا جب کہ دونوں میں انتہائی درجہ کی کششیں موجود ہوں گی جن کا دنیا کی انتہائی ترقیات پر موجود نہ ہونا ایک لازمی امر ہے۔ پس جب تم دیکھو کہ زمین نے انتہائی درجہ پر ترقی کر لی ہے تو سمجھ لو کہ یہی دن آسمانی ترقی کے بھی ہیں اور یقین کر لو کہ آسمان پر بھی ایک روحانی تیاری ہے اور وہاں بھی ایک کشش پیدا ہو گئی ہے جو زمینی کشش سے لڑنا چاہتی ہے۔ پس ایسے دن سخت خوفناک ہیں جب کہ زمین غفلت اور برائی میں انتہائی درجہ پر ترقی کر جائے کیونکہ روحانی لڑائی کیلئے وہی وعدہ کے دن ہیں جن کو نبیوں نے طرح طرح کے استعارات میں بیان کیا ہے اور بعض نے اس مثال میں اس کو پیش کیا ہے کہ یہ آسمانی فرشتوں اور زمینی شیطانوں کی ایک آخری لڑائی