گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟ — Page 627
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۲۳ گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے رناہ سے نجات کیوں کرمل سکتی ہے اس رسالہ میں ہمارا یہ ارادہ ہے کہ دنیا کو دکھا ئیں کہ جس قدر ہمارا یہ زمانہ اپنی جسمانی حالت کے رو سے ترقی کر گیا ہے اسی قدر اپنی روحانی حالت کے رو سے تنزل میں ہے یہاں تک کہ روحوں میں یہ برداشت ہی نہیں رہی کہ وہ پاک سچائیوں کو چھو بھی سکیں بلکہ انسانوں پر ایک غور کی نظر ڈالنے سے ثابت ہو رہا ہے کہ مخفی طور پر ایک بھاری کشش ان کو نیچے کی طرف کھینچ رہی ہے اور وہ دمبدم ایک گڑھے کی طرف حرکت کر رہے ہیں جس کو دوسرے لفظوں میں اسفل السافلین کہہ سکتے ہیں اور استعدادوں پر ایک ایسا انقلاب آگیا ہے کہ وہ ایسی چیزوں کی خوبصورتی کی نہایت تعریف کر رہے ہیں جو روحانیت کی نظر سے سخت مکر وہ اور بدشکل ہیں۔ ہر ایک کانشنس محسوس کر رہا ہے کہ ایک کشش اس کو نیچے کی طرف لے جارہی ہے اور انہی کششوں کے برباد کن اثروں سے ایک عالم تباہ ہو گیا ہے ۔ پاک سچائیوں کو ٹھٹھے اور ہنسی سے دیکھا جاتا ہے اور سچ مچ رو بخدا ہو جانے کو ایک حماقت سمجھا جاتا ہے۔ تمام نفوس جو زمین پر ہیں یک لخت دنیا پر سرنگوں نظر آتے ہیں گویا ایک پنہانی قوت جاز بہ سے معذور اور مجبور ہورہے ہیں۔ یہ وہی بات ہے جو ہم پہلے لکھ آئے ہیں کہ دنیا کا تمام کاروبار کشتوں پر ہی چلتا ہے۔ جس پہلو میں یقین کی قوت زیادہ ہے وہ اس دوسرے پہلوکو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور چونکہ یہ فلاسفی نہایت ہی صحیح ہے کہ ایک کشش کو صرف وہ کشش روک سکتی ہے جو اس کی نسبت بہت زبر دست اور طاقتور ہو اس لئے یہ دنیا جو اس سفلی کشش سے متاثر ہو کر نیچے کی طرف کھینچی جارہی ہے اس کا اوپر کی طرف رخ کرنا بالکل جائے