گورنمنٹ انگریزی اور جہاد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 32 of 615

گورنمنٹ انگریزی اور جہاد — Page 32

روحانی خزائن جلد۱۷ ۳۲ گورنمنٹ انگریزی اور جہاد نہیں تھا اور اسلام اُن بادشاہوں کی کارروائیوں کا ذمہ وار نہیں ہے جو نبوت کے زمانہ کے بعد سراسر غلطیوں یا خود غرضیوں کی وجہ سے ظہور میں آئیں ۔ اب جو شخص نادان مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے بار بار جہاد کا مسئلہ یاد دلاتا ہے گویا وہ ان کی زہریلی عادت کو تحریک دینا چاہتا ہے۔ کیا اچھا ہوتا کہ پادری صاحبان صحیح واقعات کو مدنظر رکھ کر اس بات پر زور دیتے کہ اسلام میں جہاد نہیں ہے اور نہ جبر سے مسلمان کرنے کا حکم ہے جس کتاب میں یہ آیت اب تک موجود ہے کہ لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ یعنی دین کے معاملہ میں زبردستی نہیں کرنی چاہئے ۔ کیا اس کی نسبت ہم ظن کر سکتے ہیں کہ وہ جہاد کی تعلیم دیتی ہے۔ غرض اس جگہ ہم مولویوں کا کیا شکوہ کریں خود پادری صاحبوں کا ہمیں شکوہ ہے کہ وہ راہ انہوں نے اختیار نہیں کی جو در حقیقت کچی تھی اور گورنمنٹ کے مصالح کے لئے بھی مفید تھی ۔ اسی درد دل کی وجہ سے میں نے جناب نواب وائسرائے صاحب بہادر بالقابہ کی خدمت میں دو دفعہ درخواست کی تھی کہ کچھ مدت تک اس طریق بحث کو بند کر دیا جائے کہ ایک فریق دوسرے فریق کے مذہب کی نکتہ چینیاں کرے۔ لیکن اب تک اُن درخواستوں کی طرف کچھ توجہ نہ ہوئی ۔ لہذا اب بار سوم حضور مدوح میں پھر درخواست کرتا ہوں کہ کم سے کم پانچ برس تک یہ طریق دوسرے مذاہب پر حملہ کرنے کا بند کر دیا جائے اور قطعاً ممانعت کر دی جائے کہ ایک گروہ دوسرے گروہ کے عقائد پر ہرگز مخالفانہ حملہ نہ کرے کہ اس سے دن بدن ملک میں نفاق بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ مختلف قوموں کی دوستانہ ملاقاتیں ترک ہوگئی ہیں کیونکہ بسا اوقات ایک فریق دوسرے فریق پر اپنی کم علمی کی وجہ سے ایسا اعتراض کر دیتا ہے کہ وہ دراصل صحیح بھی نہیں ہوتا اور دلوں کو سخت رنج پہنچا دیتا ہے اور بسا اوقات کوئی فتنہ پیدا کرتا ہے۔ جیسا کہ مسلمانوں پر جہاد کا اعتراض بلکہ ایسا ۱۳ اعتراض دوسرے فریق کے لئے بطور یاد دہانی ہو کر بھولے ہوئے جوش اس کو البقرة: ۲۵۷