گورنمنٹ انگریزی اور جہاد — Page 31
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۳۱ گورنمنٹ انگریزی اور جہاد اور پادری ریواڑی کا رسالہ جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نہایت درجہ کی تو ہین اور تکذیب سے پر ہیں۔ یہ ایسی کتابیں ہیں کہ جو شخص مسلمانوں میں سے اس کو پڑھے گا اگر اس کو صبر اور حلم سے اعلیٰ درجہ کا حصہ نہیں تو بے اختیار جوش میں آجائے گا کیونکہ ان کتابوں میں علمی بیان کی نسبت سخت کلامی بہت ہے جس کی عام مسلمان برداشت نہیں کر سکتے ۔ چنانچہ ایک معزز پادری صاحب نے اپنے ایک پرچہ میں جو لکھنؤ سے شائع ہوتا تھا لکھتے ہیں کہ اگر ۱۸۵۷ء کا دوبارہ آنا ممکن ہے تو پادری عمادالدین کی کتابوں سے اس کی تحریک ہوگی۔ اب سوچنے کے لائق ہے کہ پادری عماد الدین کا کیسا خطر ناک کلام ہے جس پر ایک معزز مشنری صاحب یہ رائے ظاہر کرتے ہیں اور گذشتہ دنوں میں میں نے بھی مسلمانوں میں ایسی تحریروں سے ایک جوش دیکھ کر چند دفعہ ایسی تحریریں شائع کی تھیں جن میں ان سخت کتابوں کا جواب کسی قدر سخت تھا۔ ان تحریروں سے میرا مدعا یہ تھا کہ عوض معاوضہ کی صورت دیکھ کر مسلمانوں کا جوش رُک جائے ۔ سو اگر چہ ان حکمت عملی کی تحریروں سے مسلمانوں کو فائدہ تو ہوا اور وہ ایسے رنگ کا جواب پا کر ٹھنڈے ہو گئے لیکن مشکل یہ ہے کہ اب بھی آئے دن پادری صاحبوں کی طرف سے ایسی تحریریں نکلتی رہتی ہیں کہ جوز و درنج اور تیز طبع مسلمان ان کی برداشت نہیں کر سکتے ۔ یہ نہایت خوفناک کارروائی ہے کہ ایک طرف تو پادری صاحبان یہ جھوٹا الزام مسلمانوں کو دیتے ہیں کہ ان کو قرآن میں ہمیشہ اور ہر ایک زمانہ میں جہاد کا حکم ہے گویا وہ ان کو جہاد کی رسم یاد دلاتے رہتے ہیں۔ اور پھر تیز تحریریں نکال کر اُن میں اشتعال پیدا کرتے رہتے ہیں نہ معلوم کہ یہ لوگ کیسے سیدھے ہیں کہ یہ خیال نہیں کرتے کہ ان دونوں طریقوں کے ملانے سے ایک خوفناک نتیجہ کا احتمال ہے۔ ہم بار ہا لکھ چکے ہیں کہ قرآن شریف ہرگز جہاد کی تعلیم نہیں دیتا۔اصلیت صرف اس قدر ہے کہ ابتدائی زمانہ میں بعض مخالفوں نے اسلام کو تلوار (1) سے روکنا بلکہ نابود کرنا چاہا تھا سو اسلام نے اپنی حفاظت کے لئے اُن پر تلوار اٹھائی اور انہی کی نسبت حکم تھا کہ یا قتل کئے جائیں اور یا اسلام لائیں۔ سو یہ حکم مختص الزمان تھا ہمیشہ کے لئے