گورنمنٹ انگریزی اور جہاد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 13 of 615

گورنمنٹ انگریزی اور جہاد — Page 13

روحانی خزائن جلد۱۷ ۱۳ گورنمنٹ انگریزی اور جہاد روشناسی بھی نہیں وہ کسی دوکان پر اپنے بچوں کے لئے کوئی چیز خرید رہا ہے یا اپنے کسی اور جائز کام میں مشغول ہے اور ہم نے بے وجہ بے تعلق اس پر پستول چلا کر ایک دم میں اس کی بیوی کو بیوہ اور اس کے بچوں کو یتیم اور اس کے گھر کو ماتم کدہ بنا دیا۔ یہ طریق کس حدیث میں لکھا ہے یا کس آیت میں مرقوم ہے؟ کوئی مولوی ہے جو اس کا جواب دے! نادانوں نے جہاد کا نام سن لیا ہے اور پھر اس بہانہ سے اپنی نفسانی اغراض کو پورا کرنا چاہا ہے یا محض دیوانگی کے طور پر مرتکب خونریزی کے ہوئے ہیں۔ ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں جو اسلام نے خدائی حکم سے تلوار اٹھائی وہ اس وقت اٹھائی گئی کہ جب بہت سے مسلمان کافروں کی تلواروں سے قبروں میں پہنچ گئے آخر خدا کی غیرت نے چاہا کہ جو لوگ تلواروں سے ہلاک کرتے ہیں وہ تلواروں سے ہی مارے جائیں۔ خدا بڑا کریم اور رحیم اور حلیم ہے اور بڑا برداشت کرنے والا ہے لیکن آخر کار راستبازوں کے لئے غیرت مند بھی ہے۔ مجھے تعجب ہے کہ جبکہ اس زمانہ میں کوئی شخص مسلمانوں کو مذہب کے لئے قتل نہیں کرتا تو وہ کس حکم سے نا کردہ (۱۳) گناہ لوگوں کو قتل کرتے ہیں۔ کیوں اُن کے مولوی ان بے جا حرکتوں سے جن سے اسلام بدنام ہوتا ہے اُن کو منع نہیں کرتے ۔ اس گورنمنٹ انگریزی کے ماتحت کس قدر مسلمانوں کو آرام ہے کیا کوئی اس کو گن سکتا ہے۔ ابھی بہتیرے ایسے لوگ زندہ ہوں گے جنہوں نے کسی قدر سکھوں کا زمانہ دیکھا ہوگا ۔ اب وہی بتائیں کہ سکھوں کے عہد میں مسلمانوں اور اسلام کا کیا حال تھا۔ ایک ضروری شعار اسلام کا جو بانگ نماز ہے وہی ایک جرم کی صورت میں سمجھا گیا تھا۔ کیا مجال تھی کہ کوئی اونچی آواز سے بانگ کہتا اور پھر سکھوں کے برچھوں اور نیزوں سے بیچ رہتا۔ تو اب کیا خدا نے یہ بُرا کام کیا جو سکھوں کی بے جا دست اندازیوں سے مسلمانوں کو چھڑایا اور گورنمنٹ انگریزی کی امن بخش حکومت میں داخل کیا اور اس گورنمنٹ کے آتے ہی گویا نئے سرے پنجاب کے مسلمان مشرف باسلام ہوئے ۔ چونکہ احسان کا عوض احسان ہے اس لئے نہیں چاہیے کہ ہم اس خدا کی نعمت کو جو ہزاروں دعاؤں کے بعد