گورنمنٹ انگریزی اور جہاد — Page xxxix
تالیف رسالہ تحفہ گولڑویہ اِسی اثنا میں آپ نے تحفہ گولڑویہ کتاب لکھی جس میں آپ نے اپنے دعویٰ کی صداقت پر زبردست دلائل دیئے اور نصوص قرآنیہ و حدیثیہ سے ثابت کیا کہ آنے والے مسیح موعود کا امتِ محمدیہ میں سے ظاہر ہونا ضروری تھا اور اس کے ظہور کا یہی زمانہ تھا جس میں اﷲ تعالیٰ نے مجھے مبعوث فرمایا ہے- تحفہ گولڑویہ لکھنے کی غرض جیسا کہ ٹائٹل پیج پر لکھا ہے پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی اور ان کے مریدوں اور ہم خیال لوگوں پر اتمام حجت ہے جیسا کہ ’’اشتہار انعامی پچاس روپیہ‘‘ میں تحریر فرمایا ہے: - ’’مجھے خیال آیا کہ عوام جن میں سوچ کا مادہ طبعاً کم ہوتا ہے وہ اگرچہ یہ بات تو سمجھ لیں گے کہ پیر صاحب عربی فصیح میں تفسیر لکھنے پر قادر نہیں تھے اِسی وجہ سے تو ٹال دیا۔لیکن ساتھ ہی ان کو یہ خیال بھی گذرے گا کہ منقولی مباحثات پر ضرور وہ قادر ہوں گے تبھی تو درخواست پیش کر دی اور اپنے دلوں میں گمان کریں گے کہ اُن کے پاس حضرت مسیح کی حیات اور میرے دلائل کے ردّ میں کچھ دلائل ہیں اور یہ تو معلوم نہیں ہو گا کہ یہ زبانی مباحثہ کی جرأت بھی میرے ہی اس عہد ترک بحث نے ان کو دلائی ہے جو انجام آتھم میں طبع ہو کر لاکھوں انسانوں میں مشتہر ہو چکا ہے۔لہٰذا میں یہ رسالہ لکھ کر اس وقت اقرار صحیح شرعی کرتا ہوں کہ اگر وہ اس کے مقابل پر کوئی رسالہ لکھ کر میرے ان تمام دلائل کو اوّل سے آخر تک توڑ دیں اور پھر مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی ایک مجمع بٹالہ میں مقرر کر کے ہم دونوں کی حاضری میں میرے تمام دلائل ایک ایک کر کے حاضرین کے سامنے ذکر کریں او ر پھرہر ایک دلیل کے مقابل پر جس کو وہ بغیر کسی کمی بیشی اور تصرف کے حاضرین کو سنا دیں گے پیر صاحب کے جوابات سنا دیں اور خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہیں کہ یہ جوابات صحیح ہیں اور دلیل پیش کر دہ کی قلع قمع کرتے ہیں تو مَیں مبلغ پچاس روپیہ انعام بطور فتحیابی پیر صاحب کو اسی مجلس میں دے دوں گا …… اگر انعامی رسالہ کا انہوں نے جواب نہ دیا تو بلاشبہ لوگ سمجھ جائیں گے کہ وہ سیدھے طریق سے مباحثات پر بھی قادر نہیں ہیں -‘‘ (تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد ۱۷، صفحہ ۳۶)