گورنمنٹ انگریزی اور جہاد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxv of 615

گورنمنٹ انگریزی اور جہاد — Page xxxv

بندوں کو ایمان لانے سے روکیں اور اس بات سے روکیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے حکموں پر کاربند ہوں اور اس کی عبادت کریں۔اور ان لوگوں کے ساتھ لڑنے کے لئے حکم فرماتا ہے جو مسلمانوں سے بے وجہ لڑتے ہیں اور مومنوں کو ان کے گھروں اور وطنوں سے نکالتے ہیں اور خلق اﷲ کو جبراً اپنے دین میں داخل کرتے ہیں اور دینِ اسلام کو نابود کرنا چاہتے ہیں اور لوگوں کو مسلمان ہونے سے روکتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا تعالیٰ کا غضب ہے۔’’وَ وَجَبَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَن یُّحَارِبُوْھُمْ اِنْ لَّمْ یَنْتَھُوْا‘‘ اور مومنوں پر واجب ہے جوان سے لڑیں اگر وہ باز نہ آویں -‘‘ (نور الحق حصہ اوّل۔روحانی خزائن جلد۸صفحہ۶۲) آپ کی اس تحریر سے صاف عیاں ہے کہ آپ کے نزدیک جب تلوار کے ساتھ جہاد کرنے کی شرطیں پائی جائیں اس وقت مومنوں پر تلوار کے ساتھ جہاد فرض ہو گا- اسلام نے جہاں اصلاح و تزکیہ نفس کو جہاد اکبر اور وعظ و نصیحت اور تبلیغ کو جہاد کبیر قرار دے کر انہیں دائمی اور لاز می قرار دیا ہے وہاں اس نے تلوار کے ساتھ جہاد کو جہاد اصغر اور وقتی قرار دے کر شرائط کے ساتھ مشروط کر دیا ہے۔پس جہاں اس کی شرائط پائی جائیں گی وہاں تلوار کے ساتھ جہاد واجب ہو گا اور جہاں شرائط مفقود ہوں گی وہاں نہیں ہو گا۔چونکہ مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ہندوستان میں جہادبالسیف کی شرائط نہیں پائی جاتی تھیں اس لئے آپ نے اس کی مخالفت کا فتویٰ دیا اور تمام جیّد علماء نے اپنے عمل اور اپنے قلم سے جیسا کہ اوپر ثابت کیا جا چکا ہے۔آپ کے مسلک کی تائید کی۔لیکن ۱۹۴۷ء میں تقسیم ہند کے بعد سے حالات تبدیل ہو گئے۔مشرقی پنجاب میں سے مسلمانوں کو ختم کر دینے کے لئے ان پر غیرمسلموں کا حملہ ایک سوچی سمجھی سکیم کے ماتحت ہوا …… پس جبکہ دشمن خود حملہ آور ہوا اور اس کی غرض مسلمانوں کی ہستی کو مٹانا اور ان کے مذہب کو تباہ کرنا ہے تو ایسے ظالم دشمنوں کے مقابلہ میں دفاعی جنگ اسلام کے مطابق عین جہاد ہے۔۱۹۵۰ء میں جب ہندوستان کی طرف سے پاکستان کو خطرہ لاحق ہوا تو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایّدہ اﷲ بنصرہ العزیز نے مجلس مشاورت میں تمام جماعتہائے احمدیہ کے نمائندوں کے سامنے جو ۹؍ اپریل کو تقریر فرمائی اس میں آپ نے فرمایا: - (۱) ’’ایک زمانہ ایسا تھا کہ غیر قوم ہم پر حاکم تھی اور وہ غیر قوم امن پسند تھی